بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا


سوال

بینک کےکرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھناشرعا کیساہے؟

جواب

         واضح رہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی حقیقت قرض کی ہے۔بینک کااس رقم کوسودی معاملات میں استعمال کرنااس کااپنافعل ہے،اس لیےاکاؤنٹ ہولڈرکوگناہ نہیں ملےگا،تاہم چونکہ ایک قسم سودمیں تعاون ہے،اس لیےجوازکی گنجائش صرف ضرورت کی حدتک ہے۔ چنانچہ جب خوداپنی جمع پونجی کی حفاظت ممکن نہ ہویامشکل ہوتوایسی مجبوری کی حالت میں حفاظت کی خاطربینک کےکرنٹ اکاؤنٹ میں  رقم رکھناجائزہے۔

 

عن جابر قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، وموكله ،وكاتبه ،وشاهديه ،وقال :هم سواء۔(الصحيح للمسلم،كتاب البيوع،باب الربوا،ج:2،ص:27)

الضرورات تبيح المحظورات۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:21،ص:29)


فتویٰ نمبر : 3093/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں