بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ناپاک کپڑے دھوتے وقت کپڑوں اور بدن پر لگنے والی چھینٹوں کا حکم


سوال

نجس کپڑے دھوتے وقت چھینٹیں ضروردھونےوالےکے کپڑوں اور بدن کو لگتے ہیں جن سے بچنا مشکل ہے تو کیا دھونے والے کے کپڑے اور بدن ان چھینٹوں سے ناپاک ہونگے یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ ناپاک کپڑوں کی  چھینٹیں بھی ناپاک ہیں، اس لیے   کپڑے یا بدن کے جس حصے کو لگیں گے تو اس کو بھی ناپاک کردیں گی۔

           لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ناپاک کپڑوں کی چھینٹیں بدن یا کپڑوں کے جس حصے کو لگ جائیں، وہ حصہ ناپاک ہوجائےگا۔

 

اعلم أنه إذا لف طاهر في نجس مبتل بماء واكتسب منه شيئا فلا يخلو إما ان يكون كل منهما بحيث لو انعصر قطر وحيئنذ ينجس الطاهر اتفاقا أو لا يكون واحد منهما كذلك وحيئنذ لا ينجس الطاهر إتفاقا أو يكون الذي بهذه الحالة الطاهر فقط وهو أمر عقلي لا واقعي أو النجس فقط والأصح عند الحلواني فيها أن العبرة بالطاهر المكتسب فإن كان بحيث لو انعصر قطر تنجس وإلا لا ويشترط أن لا يكون الأثر ظاهرا في الطاهر وأن لا يكون النجس متنجسا بعين نجاسة بل بمتنجس كما في شرح المنية وارتضى المصنف قول بعض المشايخ تبعا لصاحب البرهان أن العبرة للنجس۔(حاشية الطحطاوي، ‌‌كتاب الطهارة، باب الأنجاس والطهارة عنها، ص:159)


فتویٰ نمبر : 9244/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں