بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

متعین منافع پر مضاربت کے لیے پیسے دینا


سوال

زید نے بکر کو ایک لاکھ روپے کی رقم دی کہ اس کو کسی کاروبار میں لگا لیجیے اور ہر ماہ 1500 روپےمنافع مجھے دے دیا کریں۔کیا شرعاً یہ معاملہ درست ہے؟ اگر کچھ سقم ہے تواس کی درست صورت کیا ہوگی؟

جواب

           فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق ایک شخص کے سرمائے اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار عقد مضاربت کہلاتا ہے۔مضاربت میں نفع کی تقسیم مضارب اور رب المال کے مابین کسی خاص تناسب سے طےکرناضروری ہے،جب کہ حقیقی نقصان کا ذمہ دار صرف رب المال (سرمایہ کا مالک) ہوا کرتا ہے۔اگرمضاربت میں مضارب یارب المال (سرمایہ دینے والے) میں سےکسی ایک کے لیے خاص معین رقم مقرر کی جائے، تواس شرط سے عقد مضاربت فاسد ہو جاتی ہے۔

        صورت مسؤلہ میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں رب المال کے لئے ماہانہ ایک خاص مقدار میں (1500 روپے) رقم مقرر کی گئی ہے۔کاروبار کی جائز صورت یہ ہے کہ عقد کے وقت  دونوں فریق باہمی رضامندی سے یہ طے کرلیں کہ اس رقم سے جو بھی نفع ہوگا، اس کا اتنا فیصد زید کا ہوگا اور اتنا فیصد بکر کا ہوگا۔مثلاً 50 فیصد زید کا اور50فیصد بکر کا ہوگا۔

 

قال: "ومن شرطھا أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة "من الربح۔۔۔فلعله لا يربح إلا هذا القدر۔( الهداية، كتاب المضاربة، ج:3، ص:263)

ويشترط  أيضا في المضاربة أن يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد لأن الربح هو المعقود عليه وجهالته توجب فساد العقد۔( فتح القدير، كتاب المضاربة، ج:7، ص:321)


فتویٰ نمبر : 3084/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں