بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مکروہ اوقات میں نفل نماز پڑھنے کی نذر ماننا


سوال

 زید نے نذر مانی ہے کہ اگر میرا  یہ کام ہوگیا تو میں  نماز  عصرکے بعد مستقل نفل نماز پڑھوں گا،حالانکہ  نمازعصر  کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہےتو اب اس نذر کا حکم کیا ہے واضح فرمائیں؟

جواب

            فقہاےکرام کے نزدیک مکروہ اوقات میں  نفل نماز پڑھنے کی نذر منعقد  ہوسکتی ہے ،البتہ نوافل کی ادائیگی  غیر مکروہ اوقات میں  کرے گا۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق مذکورہ نذر منعقد ہوگئی ہے،اور یہ شخص  نوافل کوعصر کے بعد پڑھنے کے بجائے ایسے وقت میں پڑھے   جو مکروہ نہ ہو۔

 

لو نذر أن يصلي في الوقت المكروه فأدى فيه يصح ويأثم ويجب أن يصلي في غيره۔(البحرالرائق، الأوقات المنهي عن الصلاة فيها، ج:1، ص:262)

ولو نذر أن يصلي في الوقت المكروه جاز له الأداء فيه والأفضل أن يصليه في غيره، وكذا لو شرع في الوقت المكروه في الصلاة ومضى فيها جاز والأفضل أن يقطعها ويؤديها في وقت آخر غير مكروه۔(تبيين الحقائق،الأوقات التي يكره فيها الصلاة، ج:1، ص:186)


فتویٰ نمبر : 9240/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں