بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اصل مقدار سے کم کا بل بنانا


سوال

میں باہر ملک میں ایک کباڑی  کے ساتھ منشی ہوں  اور بسا اوقا ت  ہماری دکان میں دوسرے دکاندار  کا منشی کباڑ وغیرہ فروخت کرنے کے لیے آتا ہے ،خریداری  کے وقت  دکاندار کا منشی مجھ  سے  بل میں  مقدار کم لکھنے کا مطالبہ کرتا ہے  جس کا اس کے مالک کو علم نہیں ہوتا  ،میرے پاس  فی الحال باہر ملک میں کوئی دوسرا کام نہیں ، تو ایسی صور ت میں اگر میں  رسید میں مقدار کو کم ظاہر کروں تو شرعاً  میری نوکری کا کیا حکم ہو گا  ؟

جواب

            کسی شخص  کے پاس  ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ شخص  اپنے ملازم سے کیا کام لیتا ہے۔اگر وہ اپنے ملازم سے خلاف شریعت کام کرواتا ہے یا اس کے مقاصد و اہداف غیر شرعی ہیں تو ایسے شخص کے پاس  ملازمت جائز نہیں ۔البتہ اگر ملازم سے کوئی خلاف شریعت کام نہیں لیا جاتا اور مقاصد بھی غیر شرعی نہیں ہیں تو ایسے شخص کے پاس  ملازمت کرنا جائز ہے۔

            صورت مسئولہ کے مطابق   سائل  کا کباڑ کے  کاروبار کرنے والے کے ساتھ منشی کی ملازمت کرنا فی نفسہ جائز ہے البتہ  گاہک کے منشی کا زیادہ مقدار دے کر کم مقدار کا  بل بنوانے کا مطالبہ کرنا  جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز  ہےاور سا ئل کاخریداری کے بعد منشی کے لیے بل بنانا اس بات کا اقرار ہے کہ مذکورہ منشی سے ہم نے اتنی مقدار کی خریداری کی  ہےاب اگر سائل اس گواہی میں جھوٹ اور کذب بیانی سے کام لے  كر اصل مقدار سے کم درج کرلے تو یہ جھوٹ اور خیانت کے زمرہ میں داخل ہو کر ناجائز اور حرام ہو گا لہذا سائل کو دوسرے شخص کے دنیاوی فائدہ کے لیےاپنی آخرت کا نقصان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیےاور  اگر کوشش کے باوجود مجبوراً یہ  ناجائز کام کرنا پڑ جائے تو اس پر توبہ استغفار کیا جائے اور اگر بار بار  اس گناہ کے کام میں ملوث ہونا پڑتا ہو تو دوسری جگہ ملازمت تلاش کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے ۔

 

عن حبيب بن النعمان الأسدي، عن خريم بن فاتك الأسدي، قال: صلى النبي صلى الله عليه وسلم الصبح، فلما انصرف قام قائما، فقال: «عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله» ثلاث مرات، ثم تلا هذه الآية {واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به}۔(سنن ابن ماجه،أبواب الأحكام،باب شهادة الزور،ج:2،ص:794)

وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام عن النواس بن سمعان الأنصاري قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس۔( التفسير المظهري،سورة المائدة،الأية:3،ج:3،ص:19)                


فتویٰ نمبر : 3092/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں