بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

مضاربت میں غالب گمان سے نفع تقسیم کرنا


سوال

زید کا اپنا کاروبار ہےاور بکر اسے کچھ رقم بطور مضاربت اپنے کاروبار میں لگانے کے لیے دیتا ہے کہ اس سے حاصل شدہ منافع ان کے درمیان برابر تقسیم ہوں گے۔چونکہ زید کاکاروبار بڑاہے اس وجہ سے نفع کی تقسیم غالب گمان کے اعتبار سے کرتاہے ،تو کیا غالب گمان پر نفع کی تقسیم کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟اور اگر زید بطور احسان مقرر کردہ فیصد سے زیادہ نفع  دینا چاہتا ہو  تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟

جواب

            واضح رہے کہ اگر ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ہوتو  شرعًا ایسا معاملہ  "مضاربت" کہلاتا ہے،  مضاربت میں نفع کی تقسیم حاصل شدہ نفع کے   فیصد کے اعتبار سے طے کیا جانا ضروری ہوتا ہےاور نفع کی تقسیم میں اصل حکم یہی ہے کہ حاصل شدہ حقیقی منافع کا حساب لگا کر تقسیم  کی جائے اور محض غالب  گمان پر اکتفاء نہ کیا جائے ۔ تاہم  بطور احسان کسی  ایک  کا دوسرے کو اپنی طرف مقررہ منافع سےزیادہ نفع دینا جائز ہے۔ 

              صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  بکر  نے زید کو بطور مضاربت پیسےاپنے کاروبار میں لگانے کے لیے  دیے ہوں اس طور پر کہ اس  سے حاصل  شدہ نفع  آپس میں برابر  تقسیم کیا جائے گا تو ایسی صورت میں ابتدا سے ہی  زید کو اپنی رقم اور بکر   کی دی ہوئی  رقم کا حساب  لگاناضروری ہے پھر اگر مثلاً پچاس  فیصد رقم اس میں  مضارب(زید ) کی ہو اور باقی پچاس  فیصد رقم بکر(رب المال )نے مضاربت كے ليے دی ہو تو مضارب کی رقم کے بقدر حاصل شدہ نفع  اسی مضارب کا ہو گا اور زید کی رقم سے حاصل شدہ نفع آپس میں طے شدہ شرح  فیصدسے  تقسیم ہوگالہذا  پہلےمضارب (زید )اپنی رقم کے بقدر منافع  الگ کر کےباقی ماندہ منافع کو تقسیم کرے اور نفع کی تقسیم میں حکم  یہ ہے کہ حاصل شدہ  حقیقی منافع کا حساب لگا کر تقسیم کیا جائے،محض غالب گمان کے ساتھ تقسیم کرنا صحیح نہیں، تاہم  اگربکر(مضارب)  حساب لگانے کے بعد احتیاطاً بطورِ احسان اپنی طرف سے کچھ رقم بڑھا کر دینا چاہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

 

"(وأما) القسم الذي للمضارب أن يعمله إذا قيل له: اعمل برأيك وإن لم ينص عليه، فالمضاربة والشركة والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره، وأن يشارك غيره في مال المضاربة شركة عنان، وأن يخلط مال المضاربة بمال نفسه، إذا قال له رب المال: اعمل برأيك وليس له أن يعمل شيئا من ذلك، إذا لم يقل له ذلك."(بدائع الصنائع،فصل في بيان حكم المضاربة،ج:6،ص:95)

(وكون رأس المال عينا لا دينا) كما بسطه في الدرر (وكونه مسلما إلى المضارب) ليمكنه التصرف (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد۔(الدر المختار علىصدر رد المحتار،كتاب المضاربة،ج:5،ص:648)

الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك.(الهداية۔ كتاب الهبة،حكمها وكيفية انعقادها۔ج:3،ص:222)


فتویٰ نمبر : 3087/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں