بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو "دفع ہوجاؤ،چلی جاؤ"کہنا


سوال

ایک شخص نے اپنی  بیوی کو کچھ امور پر تنبیہ کرنے کے لئے کچھ الفاظ بولے ہیں :"کہ تا نہ سمیگے نو زہ خپل کار کوہ چی چرتہ زی نو زہ۔ ستا دا رویہ کہ جاری وی نو زہ کڈہ وخلہ او زہ بیا دلتہ سہ کے۔ کہ نہ سمیگے نو زہ رکہ شہ زہ پہ تا سہ کوم۔۔ کہ داسی بدتمیزی کے نو بس پاسہ زہ۔ زہ دا نہ شم برداشت کولے "یہ ساری باتیں کرتے ہوئے اس کے ذہن میں اسے اسکے ماں باپ کے گھر بھیجنا مقصود تھا اور اسے سزا کے طور پر خود سے الگ رکھنا مقصود تھا، طلاق کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اب ایسے الفاظ اگر اس نے بولے ہیں کہ دفعہ ہو جاؤ یا یہ سارے الفاظ بولے ہیں،اسکی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

           فقہاے کرام نے "چلی جاؤ، گھرسے نکل جاؤ"کے الفاظ طلاق کے کنائی الفاظ میں شمار فرمائے ہیں۔ان کا حکم یہ ہے کہ اگر بیوی کو یہ الفاظ طلاق دینے کے نیت سے کہے جائیں تو ان سےایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے اور اگر طلاق کی نیت نہ ہو تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

           صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر واقعتاً شوہر نے سوال میں مذکور الفاظ سےطلاق کی نیت نہیں کی تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا بدستوردونوں میاں بیوی کے طور پر رہ سکتے ہیں۔‌

 

الكنايات (‌لا ‌تطلق ‌بها) قضاء (‌إلا ‌بنية ‌أو ‌دلالة ‌الحال) (فنحو اخرجي واذهبي وقومي)۔۔۔(وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الاول فقط) (الدر المختار على صدر رد المحتار، ‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج:4، ص:533/528)


فتویٰ نمبر : 6472/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں