بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
وکیل کا اپنی خدمت کا معاوضہ لینا
سوال
میں ایک سرکاری محکمہ میں نوکر ہوں ،ایکسائز والوں سے تعلقات ہیں۔میں لوگوں کے لیے اپنے اثرورسوخ سے گاڑی کے نمبر پلیٹ بناتا ہوں،لہذا پوچھنا یہ ہے کہ کیا حکومت کے پیسوں کے علاوہ میں اپنے لیے ان لوگوں سے اپنے اس خدمت کا معاوضہ لے سکتا ہوں ؟کیا یہ معاوضہ میرے لیے جائز ہوگا؟
جواب
وکیل اپنی خدمت کا معاوضہ لینے کا شرعا مستحق ہے،بشرط یہ کہ اجرت پہلے سے متعین کرےیا وہ معاشرہ میں اجرت کے عوض کام کرنے پر مشہور ہو،ایسی صورت میں وہ اجرت مثل کا مستحق رہتا ہے۔اور اگر اجرت کی تعیین پہلے سے نہ ہوئی ہو اور نہ یہ شخص اجرت پر لوگوں کے لیے کام کرتا ہو تو اس صورت میں اس کی خدمت تبرع شمار ہوکر اجرت کا مستحق نہیں رہےگا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کے لیے نمبر پلیٹ بنوانے کی اجرت پہلے سے متعین کی گئی ہو، ا ور مذکورہ کام سرانجام دینے میں کسی رشوت یا حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو تو اس صورت میں سائل اپنی اجرت لے سکتا ہےاور اگر اجرت کی تعیین نہ ہوئی ہواور نہ سائل اجرت پر کام کرنے سے مشہور ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے اجرت لینا جائز نہ ہوگا،نیز یہ بھی واضح رہے کہ کسی ایک محکمہ کا نوکر اپنی ڈیوٹی کے اوقات میں کسی دوسرے کے کام میں اپنا وقت صرف نہیں کرسکتا کیونکہ تنخواہ دار ملازم اپنے محکمہ میں وقت دینے اور کام کرنے کی تنخواہ وصول کرتا ہےاس لیے ڈیوٹی کے اوقات اپنے ہی محکمہ میں گزارنا لازمی ہیں۔
إذا اشترطت الأجرة في الوكالة،وأوفاها الوكيل استحق الأجرة۔۔۔۔۔۔وإن لم تشترط،ولم الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا،فليس له أن يطالب الأجر،وأما إذا كان ممن يخدم بالأجرة،فله مثله۔۔۔۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الحادى العشر في الوكالة،الباب الثالث في احكام الوكالة:1467،ص:789)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں