بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ایک،دو،تین کہنے سے طلاق کا وقوع


سوال

اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں بیوی کے بارے میں کہے :  "چې دي کمري تا لاړه نو کور والا به په ما ۱، ۲، ۳ وي، تاسوں کرا به مونږ وبه هم نه سکو" اس کے بعد وہ خود  بیوی سمیت  وہاں گئےہوں، کھانا  کھاکررات  بھی گزاری ہوں اور بیوی اس مخصوص کمرے میں بھی گئی ہوں ،تواب  ان الفاظ سےبیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

           ایک،دو،تین کہنے سے اگر طلاق کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق ہو یا غصہ کی حالت ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے، البتہ اگر ان میں سے ایک حالت بھی نہ ہوتو پھر طلاق واقع نہیں ہوتی۔نیزاگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

           لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق چونکہ شوہر نے غصہ کی حالت میں طلاق کو معلق کرکےیہ شرط لگائی تھی: "چې دي کمري تا لاړه نو کور والا به په ما ۱، ۲، ۳ وي، تاسوں کرا به مونږ وبه هم نه سکو" اس کے بعد وہ خود   بیوی سمیت  وہاں گئے ہے، اور وہاں کھانا  کھاکررات گزاری ہےاور بیوی اس مخصوص کمرے میں بھی گئی ہے،تو ایسی صورت میں عورت طلاق مغلظہ کے ساتھ مطلقہ ہوچکی ہے۔

 

رجل قال لامرأته"ترايكى وتراسه"أو قال "تويكى وتوسه"قال ابو القاسم الصفار:لا يقع شيء وقال الصدر الشهيد:يقع إذا نوى قال وبه يفتى،قال القاضي وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق،وإن لم يكن لايقع إلا بالنية،كماقال في العربية أنت واحدة۔(خلاصة الفتاى، كتاب الطلاق، الفصل الثاني في الكنايات، ج:2، ص:98)


فتویٰ نمبر : 6471/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں