بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

معاوضہ لے کر طلبہ کے لیے اسائمنٹ لکھنا


سوال

 

میں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ اعلی تعلیم کے لیے ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وہاں ہم سے اس بات پر دستخط لیے گئے کہ ڈگری ہمیں اس شرط پر ملے گی کہ ہم اپنا اسائمنٹ(Assignment) اور تھیسسز(Thesis) کے بارے میں تمام تحقیق چاہے کتابوں سے ہو یا نیٹ سے، خود کریں گے اور ساتھ ساتھ اس کی کمپوزنگ بھی خود کرنے کے پابند ہونگے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ڈگری کے اہل نہیں کہلائیں گے۔ ہم نے اس شرط کو قبول کیا اور دستخط کر دیے۔میں چونکہ کمپوزنگ میں مہارت رکھتا ہوں اپنے باقی دوستوں کی بنسبت تو اس لیے میں یہ سب خود کرتا ہوں اور دوستوں کے لیے بھی کمپپوزنگ کرتا ہوں جس پر میرے اوقات صرف ہوتے ہیں اور نیٹ کا خرچہ بھی آتا ہےاس لیے میں دوستوں سے مخصوص معاوضہ بھی لیتا ہوں۔1۔ میرے لیے اس کام پر معاوضہ لینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟2۔ دوستوں کےلیے اس طرح اسائمنٹ اور تھیسسز مجھ پر لکھوانے اور خود نہ لکھنے کی وجہ سے ڈگری حاصل کرنا درست ہے؟

جواب

          جو طلبہ دوسروں سے اپنا اسائمنٹ وغیرہ لکھواتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں:

1۔ مکمل اسائمنٹ کا مواد، تحقیق اور تحریر وغیرہ سب کام دوسروں کو عوض دے کر مکمل کراتے ہیں۔

2۔ اسائمنٹ کا اصل متن خود تحریر کرتے ہیں جب کہ کمپوزنگ، سیٹنگ اور غلطیوں کی اصلاح دوسروں کو اجرت دے کر یا بغیر اجرت کے کرواتے ہیں۔

           ان میں دوسری صورت کہ اصل متن تو خود تحریر کیا ہو لیکن صرف اس کی سیٹنگ اور غلطیوں کی اصلاح وغیرہ کروائی جائے تو اس میں کسی کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ تعلیمی اداروں کے قواعد اور ضوابط کے متصادم ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں دوسرے ماہرین، دوستوں یا کسی کو معاوضہ دے کر یا بلا معاوضہ تعاون طلب کرنا کوئی غیر قانونی یا نا جائز کام نہیں اور ایسا کرنے والا اگر اس کے عوض اجرت لے تو جائز ہے۔ البتہ پہلی صورت دھوکہ دہی اور علمی سرقہ کی ایک صورت ہے اس لیے شرعاً اور قانوناً جائز نہیں ہے اور نہ کوئی ادارہ اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ اگر کوئی اس طرح اسائمنٹ وغیرہ لکھنے پر معاوضہ لیتا ہے تو یہ تعاون علی المعصیۃ کے مترادف ہو کر ناجائز ہے۔

           لہذا صورت مسؤلہ میں اگر صرف اسائمنٹ اور تھیسسز وغیرہ میں غلطی کی اصلاح، کمپوزنگ اور سیٹنگ وغیرہ کرنے پر معاوضہ لیا جاتا ہو تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن اگر دوسرے طالب علم کے لیے تحقیق سمیت پورا کام کرکے اس کا معاوضہ لیا جائے تو یہ گناہ کے کام میں تعاون کےمترادف ہو کر نا جائز ہے اور اس پر اجرت لینا بھی جائز نہ ہوگا۔اور طلبہ کا خود اسائمنٹ وغیرہ نہ لکھنا اور دوسروں سے لکھوا کر اپنی طرف سے منسوب کر کےڈگری حاصل کرنا دھوکہ دہی، جھوٹ  اور متعلقہ ادارے کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 

﴿وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُواْ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ (المائدة: 2)

قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الخديعة في النار، من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد»۔( صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب النجش، رقم الحديث:2142)


فتویٰ نمبر : 3089/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں