بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دودھ پلانے میں شک کی صورت میں نکاح کا حکم


سوال

ایک دادی جس کی عمر سینتالیس (47) سال تھی اور اس کا آخری بچہ تیرا  (13) سال کا تھا اس نے اپنے نواسے کو بہت دفعہ پستان سے لگایا تھا اور اس کے بہت سارے گواہ بھی ہے لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں کہ دودھ پلایا تھا یا نہیں، اب دادی فوت ہوچکی ہے  اور لڑکا بڑا ہوگیا ہےتو کیا اب یہ لڑکا اپنی پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

جواب

           اگر کوئی شخص مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دودھ پلانے والی کے اصول وفروع اس پر حرام ہو جاتے ہیں، البتہ اگر دودھ  پلانا یقینی نہیں تو  شک  کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

            صورت مسؤلہ میں اگر دادی کا نواسےکو  پستان سے لگانے کے شرعی گواہ موجود ہو ں لیکن کسی کو دودھ پلانے کا علم نہ ہو تو ایسی صورت میں لڑکے کا پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے لیکن پھر بھی احتیاط یہ ہے کہ اس رشتے سے پرہیز کیا جائے۔

 

عن عائشة، قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة (الصحيح لمسلم، باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة، رقم الحديث: 1444، ج:2، ص:1068)

وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لاتثبت الحرمة بالشك (رد المختار، باب الرضاع، ج:3، ص:212)

ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت (الفتاوى الهنديه، كتاب الرضاع، ج:1، ص: 410)


فتویٰ نمبر : 6481/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں