بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

جعلی ڈگری کے ذریعے حاصل کردہ ملازمت کی تنخواہ


سوال

اگر ایک شخصB.A کے امتحان میں فیل ہو چکا ہواور وہ   سعودی عرب  کی ایک کمپنی میں ملازمت کرنے کے لیے کاغذات  جمع  کرنا چاہتا ہو   جس  کے لیے B.A کا پاس ہونا ضروری  ہے  وہ شخص پاکستان میں کسی رشتہ دار کے ذریعے جعلی ڈگری  بنا کر  اس   کے ذریعےکمپنی میں  ملازمت حاصل  کرے تو اس شخص کی تنخوا ہ کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ اجیر خاص کو اجرت اس کے عمل کے عوض ملتی ہے۔ لہذا اگر وہ مفوضہ  کام صحیح طرح سے سرانجام دینے پر قادر ہواور مقررہ وقت میں اپنی حاضری یقینی بناتا ہوتو اس کے لیے اجرت لینا جائز ہوتا ہے ۔

              صورت مسئولہ کے مطابق جب کوئی شخص جعلی سند کے ذریعہ ملازمت حاصل کرتا ہے تو اگر وہ مفوضہ ڈیوٹی بخوبی سرانجام دینے پر قادر ہوتو اس کے لیے تنخواہ لینا حلال ہے، لیکن ملازمت حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا گیا یہ طریقہ بہر حال ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ اس میں جھوٹ اوردھوکہ دہی جیسے سنگین گناہوں کا ارتکاب ہے۔

 

تتعقد الإجارة بالإيجاب والقبول كالبيع۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة 4330، كتاب الإجارة ، الباب الثاني في المسائل المتعلقة بالأجرة، ص:243)

يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين۔( شرح المجلة لسليم رستم باز، المادة:448، كتاب الإجارة ، الباب الثاني في المسائل المتعلقة بالأجرة، ص:254)


فتویٰ نمبر : 2938/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں