بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

خرید وفروخت میں نفع کا معیار


سوال

میں میڈیسن کا کاروبار کرتا ہوں،بعض دوائی اپنی اصل قیمت سے گئی گنا بڑھ کر مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہے،مثلا:ایک دوائی مجھے 200 میں ملتی ہے،میں مارکیٹ میں 2500 میں فروخت کرتا ہوں مارکیٹ والے گاہک کو 3000 میں فروخت کرتے ہیں تو کیا میرے لیے یہ نفع کمانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

         شریعت نے نفع کے لیے کوئی خاص حد متعین نہیں کی ہے،لیکن تجار کو حکم دیا ہےکہ وہ معروضی حالات کی مناسبت سے اشیا کی ایسی قیمتیں متعین کیا کریں جن میں نہ خریداروں پر ناقابل تحمل بوجھ پڑےاور نہ ہی خود ان کو نقصان پہنچے۔کسی کی مجبوری سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں اور ظلم زیادتی کی تجارت سے گریزکریں۔لہذااگر تاجر جھوٹ اور دھوکہ دہی سےبچتے ہوئےگاہک کی رضامندی سے کسی بھی قیمت پر معاملہ کرےتو اس کی گنجائش ہےیعنی نفسِ کمائی حلال ہے،تاہم اس قدر نفع لینے کو فقہاء نے نا پسندیدہ اور خلاف مروت کہا ہے جو غبن فاحش کے زمرے میں آتاہویعنی مارکیٹ میں کسی چیز کی جو زیادہ سے زیادہ قیمت چل رہی ہو اس سے بھی  زیادہ نفع لیا جائے۔

            صورت مسئولہ کےمطابق اگر میڈیسن کی قیمتیں حکومت کی جانب سے متعین ہوں تو اس متعین قیمت پر بیچنا جائز ہے،تاہم حکومت کو عوام کی معاشی حالت مد نظر رکھتے ہوئےاشیائے ضرورت کے لیے منصفانہ قیمتوں کا تعین کرنا چاہیے۔

 

الثمن المسمی ھو الثمن الذی یسمیہ ویعینہ العاقدان وقت البیع بالتراضی سواء کان مطابقا لقیمتہ الحقیقیۃ أو ناقصا عنھا أو زائدا علیھا۔(شرح المجلۃ رستم،ج:1،ص:73،المادۃ:103)۔

والفاصل بين القليل والكثير إن كانت زيادة تدخل تحت تقويم المقومين فهي قليلة، وما لا تدخل تحت تقويمهم فهي كثيرة؛ لأن ما يدخل تحت تقويم المقومين، لا يتحقق كونه زيادة وما لا يدخل كانت زيادته متحققة۔(بدائع الصنائع،فصل فی بیان حکم التوکیل،ج:7،ص:446)

قوله (والزيادة فيه) أي صحت الزيادة في الثمن (والحط منه) أي من الثمن، ويلتحقان بأصل العقد عندنا۔۔۔ ولنا أنهما بالحط والزيادة يغيران العقد من وصف مشروع إلى وصف مشروع، وهو كونه رابحا أو خاسرا أو عدلا، ولهما ولاية الرفع فأولى أن يكون لهما ولاية التغيير۔(البحر الرائق،باب المرابحۃ والتولیۃ،فصل فی بیان التصرف فی المبیع والثمن،ج:6،ص:198)


فتویٰ نمبر : 3085/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں