بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی سے تعمیر شدہ گھر میں نماز ودیگر عبادات کا حکم


سوال

 حرام مال کی کمائی سے تعمیر شدہ گھر میں کیانماز ، روزہ ، تلاوت عند اللہ قبول ہوگا؟

جواب

             فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق ایسی زمین جس کے ساتھ کسی غیر کا حق متعلق ہو اس میں نماز وغیرہ ادا کرنے سےذمہ فارغ ہوجاتا ہے،تاہم کامل اجر اور پورا فائدہ اسے نہیں ملے گا۔

           صورت مسئولہ کے مطابق اگرکوئی شخص حرام کمائی سے تعمیر شدہ گھر میں نماز ،روزہ وغیرہ ادا کرے تو ان عبادات کی ادائیگی سے اس کا ذمہ فارغ ہوجائے گایعنی اس کا لوٹانا واجب نہیں،البتہ حرام مال سے گھر بنانے کا گنا ہ بہر حال ہوگا جس سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ اندازہ لگائے کہ کتنا مال حرام ذرائع سے حاصل کیا ہے،پھر اس حرام مال کومالکوں تک پہنچائے۔اگر مالک معلوم نہ ہوں توبلا نیت ثواب فقرا پر صدقہ کرے۔

الصلاة في أرض مغصوبة جائزة ولكن يعقاب بظلمه فما كان بينه وبين الله تعالى يثاب،وما كان بينه وبين العباد يعاقب۔۔۔الصلاة جائزة في جميع ذالك لإستجماع شرائطها وأركانها وتعاد علی وجه غير مكروه وهو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة،كذا في الهداية۔(الفتاوی الھندیة،کتاب الصلاۃ،الباب السابع،الفصل الثانی،ج:1،ص:168)۔

والحاصل أنه إ ن علم أرباب الأموال وجب رده علیھم والا فان علم عین الحرام لا یحل له ویتصدق به بنیة صاحبه۔(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب البیوع،مطلب فی من ورث مالاحراما،ج:7،ص:301)۔


فتویٰ نمبر : 9278/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں