بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدفون میت کوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

ہم نے اپنی ملکیتی زمین میں قبرستان بنائی ہے،اب اس قبرستان  کے بیچ  میں کسی نے ہماری اجازت کے بغیر  ایک بچی  دفن کی ہے،اور ہمیں اس بچی کے دفنانے کے وقت علم نہیں تھا،اب ہم اس بچی کو بیچ سے نکال کر  اسی قبرستان  کےایک کونے میں دفن کرنا چاہتے ہیں ،کیونکہ ہم اپنے  بچوں کو  بھی قبرستان کے  ایک طرف میں دفن کرتے ہیں ،لہذا  ہمارے لیےاس بچی کو بیچ سے نکال کر  اسی قبرستان کے ایک طرف میں  دفنانا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

           جب میت کو ایک مرتبہ قبر میں  دفن کیا جائے پھر اس کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں  ، البتہ میت کواگر  کسی غیر کی زمین میں  مالک کی اجازت کے بغیر  دفن کیا جائےاور مالک زمین  میت  کے یہاں رہنے پر بالکل راضی نہ ہو بلکہ اپنی  زمین سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کرتاہو  تو ایسی صورت میں میت  کو دوسری   جگہ  منتقل کرنے کی اجازت ہے ۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق جب ایک مرتبہ بچی قبرستان  میں دفن کی گئی  تواسی   قبرستان  میں   محض جگہ تبدیل کرنے کے لیے بچی نکالنا درست نہیں ۔

 

"ولا يجوز نقله" أي الميت "بعد دفنه" بأن أهيل عليه التراب وأما قبله فيخرج "بالإجماع" بين أئمتنا طالت مدة دفنه أو قصرت للنهي عن نبشه والنبش حرام حقا لله تعالى "إلا أن تكون لأرض مغصوبة" فيخرج لحق صاحبها إن طلبه وإن شاء سواه بالأرض وانتفع بها زراعة أو غيرها۔۔۔النقل بعد الدفن على ثلاثة أوجه في وجه يجوز باتفاق وفي وجه لا يجوز باتفاق وفي وجه اختلاف أما الأول فهو إذا دفن في أرض مغصوبة أو كفن في ثوب مغصوب ولم يرض صاحبه إلا بنقله عن ملكه أو نزع ثوبه جاز أن يخرج منه باتفاق۔(حاشية الطحطاوي علی مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل في حملهاودفنها، ج:1، ص:507)


فتویٰ نمبر : 9241/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں