بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

حقِ میراث سے دستبردارہو جانے کے بعد دوبارہ مطالبہ کرنا


سوال

اگر ورثاء میں سے بعض یہ کہیں کہ:  ہم میراث میں  اپنا حصہ نہیں لیتے  اور پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ مطالبہ کریں تو کیا پہلی مرتبہ حق چھوڑنےاور نہ لینے  سے حق میراث ختم ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

            حق وراثت اضطراری حق ہے جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا البتہ اپنا حصہ وصول کر لینے کے بعد وارث کسی کو بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی وارث اپنا حصہ چھوڑنا چاہے تو اس کاشرعی طریقہ کار یہ ہے کہ اول تمام میراث کو تقسیم کردیا جائے تقسیم کرلینے کے بعد جب تمام ورثاء اپنے اپنے حصے پر قبضہ کرلیں تو پھر اگر کوئی شخص اپنا حصہ چھوڑنا چاہے یا کسی کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔تقسیم سے پہلے محض زبان سے کہہ دینے سے نہ تو اپنا حصہ چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی اپنا حصہ کسی کو دے سکتا ہے۔ اسی لیے زبانی حصہ چھوڑدینے کےبعد بھی اس وارث کا حقِ میراث  ساقط نہیں ہوتا بلکہ بدستور اسے اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل رہے گا۔

 

الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط.( قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الدعوی، باب التحالف، ج:7، ص:505)

لو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج8،ص89)

لَوْ قَالَ الْوَارِثُ  تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ۔(الاشباه والنظائرلابن نجيم،ج1، ص316)


فتویٰ نمبر : 3285/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں