بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

سودی بینک کوزمین کرایہ پر دینا


سوال

سودی بینک کو زمین اور مکان کرایہ پردینا اور اس سے کرایہ لینا  شرعا درست ہےیا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ شریعت نےمالک  کو اپنی مملوکہ چیز  چاہے  مکان ہو یا زمین  دوسرے لوگوں کو اجارہ پر دینے کا حق دے رکھا ہے  ، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس سے شرعی حدود پائے مال نہ ہوں ۔چنانچہ جہاں شرعی حدود پائے مال ہوتے ہوں تو  ایسےاجارہ کی اجازت نہیں۔لہذا سودی بینک کو زمین یا مکان کرایہ  پر  دینا "اعانت علی المعصية"(گناہ میں تعاون)  کے مترادف ہوکر جائز نہیں۔

 

قال اللہ تعالی :تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔(المائدہ :2)

(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)۔(الدرالمختار،كتاب الإجارة،باب الإجارةالفاسدة،ج:9،ص:75)


فتویٰ نمبر : 3071/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں