بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

پگڑی کے شملےکی مقدار


سوال

مسنون پگڑی  (عمامہ )میں شملےکی مقدارکیاہونی چاہیے؟

جواب

            عمامہ باندھناایک سنت عمل ہے۔عمامہ میں ایک طرف شملہ ضرور رکھناچاہیے۔بعض روایات میں ایک شملہ سامنےاوردوسراپیچھےکی طرف لٹکانےکاذکرآیاہےاورایک روایت میں دائیں طرف لٹکانےکابھی ذکرہے۔

            شملہ کی مقدارکتنی ہونی چاہیے؟اس کے متعلق ایک ذراع،ایک بالشت اورچارانگلیوں کےبقدرمختلف اقوال منقول ہیں،لیکن راجح قول ایک ذراع کاہے،البتہ شملہ اتنالمبانہیں ہوناچاہیےکہ وہ نصف پشت سےتجاوز کرجائے۔

 

كان يدير العمامة على رأسه وكان له عمامة تسمى السحاب كساها عليا ويغرزها من ورائه ويرسل لها ذؤابة بين كتفيه۔۔۔وأقل ما ورد في طولها أربع أصابع وأكثر ما ورد ذراع وبينهما شبر۔(الشمائل الشريفة،باب كان يديرالعمامة على رأسه،ج:1،ص:302)

وأن المستحب إرسال ذنب العمامة بين الكتفين واختلفوا في مقدار الذنب قيل شبر وقيل إلى وسط الظهر وقيل إلى موضع الجلوس۔(البحرالرائق،مسائل شتی،ج:8،ص:555)


فتویٰ نمبر : 5086/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں