بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

متولی سےمسجدکامال چوری ہونا


سوال

کسی شخص کےپاس مسجدکی کچھ رقم ہواوروہ رقم باوجودحفاظت کےاس سےچوری ہوجائےتوکیااس پرضمان ہےیانہیں؟

جواب

              شریعت مطہرہ کی روسےامین سےامانت کی رقم بغیراس کی کوتاہی اورلاپرواہی کےچوری ہوجائےتواس پر کوئی ضمان نہیں آتا۔

            صورت مسئولہ کےمطابق جس شخص کےپاس مسجدکی رقم تھی اگراس نےمسجدکےمال کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کی اورچوری ہوگئی تواس پرضمان نہیں آئےگااوراگرمسجدکےمال کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی کاارتکاب کیا تواس صورت میں  ذمہ دارہوگا۔

 

(وهي أمانة ) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها ( فلا تضمن بالهلاك ) إلا إذا كانت الوديعة بأجرأشباه معزيا للزيلعي ( مطلقا ) سواء أمكن التحرز أم لا هلك معها شيء أم لا لحديث الدارقطني ليس على المستودع غير المغل ضمان۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،كتاب الإيداع،ج:5،ص:64)


فتویٰ نمبر : 5086/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں