بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
گاؤں لنڈی نورمیں نمازِ جمعہ
سوال
علاقہ شکئی قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کا ایک تحصیل ہے جسکی مردم شماری بتیس ہزار 32000 نفوس پر مشتمل ہے ۔ پانچ یونین کونسل سے ایک بڑا تجارتی بازار ہے جس میں پانچ سو دکان، دس صحت کے مراکز اور دیگر ضروریات زندگی کے تمام اشیاء موجود ہیں۔ شکئ کا طول دس کلو میٹر اور عرض 7 کلو میٹر ہے ۔ مرکزی بازار درمیان میں واقع ہے ،بازار کے ساتھ متصل کوئی گھرانہ نہیں ہے، بازار اور تمام محلات کے مابین زرعی زمین واقع ہے۔ شکئی کے چار یونین کونسلز میں عرصہ دراز سے نماز جمعہ قائم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گاؤں لنڈی نور جو کہ 150 گھرانے، جو 463 خاندانوں پر مشتمل ہے ۔ جسکی نفوس کی تعداد 3300 ہیں، درج شدہ ووٹ کی تعداد 930 ہے جس میں ایک چھوتائی ووٹ درج نہیں ہے ۔ درج شدہ آبادی اس قوم کی ہے جس کی زمین پر مرکزی مسجد واقع ہے۔ اس قبیلے کے ساتھ متصل دونوں جانب دو اور قبیلے بھی ہے ۔ جن کا مر جع بھی یہی مرکزی مسجد اور مدرسہ ہے ۔ اور اس مدرسے میں ان کے بچے زیر تعلیم ہے۔ اور ان دونوں قبیلوں کی آبادی بھی کم و بیش 3500 نفوس پر مشتمل ہے۔ لہذا مسجد کے متولی برادری اور متصل دو قبیلوں کی ٹوٹل آبادی 6800 نفوس پر مشتمل ہے،لنڈی نور کا طول 25 کلومیٹر اور عرض 2 کلو میٹر ہے۔در میان میں ایک پکی سڑک ہے ۔ جس کی دونوں طرف گاؤں کی آبادی واقع ہے۔اس گاؤں کے بالکل در میان میں مرکزی مسجد واقع ہے ۔ جس کا رقبہ چوڑائی 83 فٹ اور لمبائی 96 فٹ ہے۔ اس مسجد کے آس پاس 14 چھوٹے چھوٹے مساجد واقع ہیں۔ مرکز ی مسجد کے ساتھ بنین اور بنات طلباء کے لئے ایک دینی مدرسہ اور گور نمنٹ مڈل سکول بوائز اور ایک گورنمنٹ مڈل سکول گر لز واقع ہیں۔ مسجد کے ساتھ ایک کمیونٹی ہیلتھ سنٹر بھی واقع ہے ۔ جسکی بلڈ نگ مکمل ہے ، لیکن تاحال فنکشنل نہیں ہے ۔ مسجد کے جوار میں غلہ کی مشین اور آٹھ دکا نیں ہیں ۔ جس میں روز مرہ استعمال کی ضروری آشیاءہر وقت دستیاب رہتے ہیں۔ اس گاؤ ں کے ایک سائڈ میں پاک آرمی کا بنا یاہو ادس دکانوں پر مشتمل ایک مارکیٹ بھی ہے ۔ جس کی کچھ دکانیں فنکشنل ہیں،گاؤں لنڈی نور سے 4 عد د ٹوڈی گاڑیاں ملک پاکستان کے مختلف شہروں میں آتے جاتے ہیں۔مرکزی مسجد سے تھوڑے فاصلہ پر گاؤں کا مرکزی قبرستان واقع ہے ۔ اس قبرستان کے علاوہ تین چھوٹے قبرستان اور بھی ہے ۔ گاؤں ہذا میں کھیل کھود کے میدان بھی ہے۔ واضح رہے کہ تحصیل بلڈنگ آرمی ہیڈ کوارٹر، مرکزی بازار،صدر تھانہ اور گاؤں لنڈی نور کے درمیان ایک بارانی ندی واقع ہے، جو کہ سارا سال خشک رہتاہے، تاہم برسات کے موسم میں اس میں پانی آتا ہے، لیکن آنے جانے میں مانع نہیں ہے، گاؤں لنڈی نور پانچویں یونین کونسل کا سب سے بڑا گاؤں ہے اور رقبہ کے لحاظ سے یہی یونین کونسل سب سے بڑا یونین کونسل ہے۔علاقہ کے حاکم کے طرف سے بھی جمعہ کی نماز کی اجازت حاصل ہے۔ گاؤں لنڈی نور تحصیل بلڈنگ اور آرمی ہیڈ کوارٹر سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ شکئی کے مرکزی بازار سے آٹھ سو میٹر اور صدر تھانہ سے پانچ سو میٹر پر واقع ہے۔ مذکورہ بالا شواہد کے پیشِ نظر گاؤں لنڈی نور کے مرکزی مسجد میں اقامتِ جمعہ درست ہے یا نہیں؟ مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
جمعہ کی صحتِ ادائیگی کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصر ہے یا وہ بڑا گاؤں جس میں شہر کی طرح سہولتیں پائی جاتی ہوں۔ مصر کی تعریف میں فقہاے کرام کی آرا مختلف چلی آرہی ہیں، لیکن ہر فقیہ نے اپنے زمانہ کے حالات اور عرف کو دیکھ کر مصر کی تعریف کی ہے۔ موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور اس میں ضروریاتِ زندگی میسر ہوں تو وہ گاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اور وہاں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرحسب سوال گاؤں "لنڈی نور"کی آبادی تین ہزارہو اور دکانوں میں اہم ضروریاتِ زندگی میسر ہوں تو اس گاؤں میں نماز جمعہ کا انعقاد صحیح ہے ۔
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج:2، ص:188)
لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع " والمصر الجامع كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود۔ (الهداية،كتاب الصلاة ،باب صلاة الجمعة،ج:1، ص:177)
تقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا اسواق۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ج:3 ص:6)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں