بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو"یہ میری طرف سے آزاد ہے" کہنا


سوال

اگر کوئی شخص مختلف مواقع پر تین مرتبہ اپنی بیوی کے بارےیہ الفاظ کہےکہ "یہ میری طرف سے آزاد ہے" تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

           بیوی کے بارے میں یہ کہنا کہ" یہ میری طرف سے آزاد ہے"  یہ الفاظ بذاتِ خود اگرچہ طلاقِ کنائی ہے اور اس سے طلاق کا وقوع نیت پرمبنی ہے، لیکن عرف میں یہ الفاظ طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے فقہائےکرام نے اس کو طلاقِ صریحی میں شمار کرکے نیت کے بغیر بھی اس سے طلاق کے وقوع کا قول کیا ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص نے  متفرق مواقع پراپنی  بیوی سے یہ الفاظ کہے ہوں کہ :"یہ میری طرف سے آزاد ہے" تو  پہلی مرتبہ کہنے سےایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی،اس کے بعد بیوی کی عدت ختم ہونے سے پہلے اگررجوع کرچکا ہو اور دوسری مرتبہ یہی الفاظ کہے ہوں یا دورانِ عدت یہ الفاظ کہہ چکاہو تو اس سے دوسری طلاقِ رجعی واقع ہوگی، پھر اگر دورانِ عدت رجوع کیا ہو اور رجوع کے بعد دوبارہ یہی الفاظ کہے ہوں تو اس سے تیسری طلاقِ رجعی واقع ہوگی، اس کے بعد اگر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عورت مطلقہ مغلظہ ہوکر مکمل جدا ہوگی۔

 

فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق۔ (رد المحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج:4، ص:530)


فتویٰ نمبر : 6467/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں