بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماں کی پھوپھی سے حرمتِ رضاعت کا ثبوت


سوال

اگر کوئی  شخص اپنے  بھتیجے کو لے پالک بنائے اور پھر اس کی بیوی کی  بھتیجی  اسے دودھ پلا دے تو کیا بیوی کی بھتیجی کے دودھ پلانے سے شوہر کا بھتیجا  اسکی بیوی  کے لیے محرم بن سکے گا یا نہیں؟

جواب

              شریعتِ مطہرہ کی رو سے رضاعت کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو  نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں لہذا اگر کوئی بچہ مدتِ رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ بچے کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اور اس بچے پر یہ عورت ، اس کے اصول وفروع اور بہن ،بھائی سب حرام ہوجاتے ہیں۔

           صورتِ مسئولہ میں کسی عورت کی بھتیجی  کا بچے کو دودھ پلا نے سے وہ بچہ اس بھتیجی کا رضاعی بيٹا بن جائے گا  اور اس بچے پر اس کی رضاعی ماں کے اصول و فروع سب حرام ہو جائیں گےجن میں رضاعی ماں کی پھوپھی بھی شامل ہےلہذا اس سے یہ لے پالک بیٹا ان کے لیے محرم بن جائےگا۔

 

قال الله تعالىٰ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ. (النساء: 23)

وَعَمَّاتُكُمْ وَخالاتُكُمْ تعم أخوات الأب لاحد الأبوين أولهما وأخوات الام لاحد الأبوين أولهما وتلحق بهن اجماعا عمات الأب وعمات الام وخالاتهما والعمات والخالات للجد والجدة وان علون. (التفسير المظهري، سورة النساء:23، ج:2، ص:56)

 يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع،ج1ص343)

وفروع أبويه، وإن نزلن فتحرم بنات الإخوة والأخوات وبنات أولاد الإخوة والأخوات، وإن نزلن. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:28)


فتویٰ نمبر : 6473/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں