بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ڈرائیوروں کا مالکان سے کمیشن لینے کا حکم


سوال

ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشن اور بس اڈے وغیرہ پر آٹو، ٹیکسی اور دیگر گاڑیوں والے، مسافروں کو متعینہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤس وغیرہ تک لے جاتے ہیں، جس پر وہ ان ہوٹلوں اور گیسٹ والے مالکوں سے کمیشن لیتے ہیں، شریعت کی رو سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

            عاقدین  کے درمیان معاملات طے کرانے میں جو شخص اپنا کردار اداکرتا ہے، اس کو ''سمسار'' یا ''دلال'' کہا جاتا ہے۔

           لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ٹیکسی اور دیگر گاڑی والوں کا مسافروں کو ائیر پورٹ،ریلوے سٹیشن اور بس اڈوں وغیرہ سےمتعینہ  مقامات مثلا ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوس تک  پہنچانے پر ان مالکان سے کمیشن طے کرناشرعا جائز ہے،بشرط یہ کہ وہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوس والے ان مسافروں سے رہائش اورکھانے کی رقم دوسرے ہوٹلوں کی قیمتوں کے بنسبت زیادہ نہ لے۔

 

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه ۔ ۔ ۔ وفي الحاوي:سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔( رد المحتارعلی الدرالمحتار، کتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال، ج:9، ص:87)

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانيه.(الدرالمختار مع ردالمحتار،تحت قولہ"فرع ظھربعد نقد الصراف،ج7،ص93)  


فتویٰ نمبر : 3119/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں