بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
بیوی کو بہن کے ساتھ تشبیہ دینا
سوال
ایک شخص نے غصے کی حالت میں اپنے باپ کو مخاطب کرکے اوربیوی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ "دہ زما خور دہ، دہ خور پہ شان مے دہ دے نہ بعد بہ زہ دے سرہ دہ خور او ورور غوندے ژوند تیروم" تو ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا ظہار؟ اگرظہار ہے اور چار ماہ تک شوہر نے کفارہ ادا نہ کیا تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب
ظہار کے الفاظ اور تعبیرات طلاق کی طرح دو قسم پر ہیں: صریح اور کنائی۔ صریح سے مراد ایسی تعبیرات ہیں جن میں ظہار کے سواکسی اور معنی کی گنجائش نہ ہوجیسے کہ یوں کہے:"تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ، پیٹ کی طرح ہے"۔ اس صورت میں نیت کی ضرورت نہیں بلکہ یہ قول بہرصورت ظہار پر محمول ہوگا۔ دوسری قسم کنائی ہےجس میں ظہار کے معنی کی بھی گنجائش ہو اور دوسرے معنی کے بھی، جیسے: "تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے" تو اس میں نیت کا اعتبار ہوگا۔ اگر شوہر کہے کہ میری مراد ماں جیسی احترام اور شرافت تھی تو کچھ بھی نہیں ہوگا، اور اگرطلاق کا ارادہ ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی، ایلاء مراد ہو تو ایلاء کا حکم لاگو ہوگااور اگر ظہار مراد ہو تو ظہار کا حکم لگے گا، البتہ اگر کچھ مراد نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق کوئی حکم نہیں لگے گا۔
صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے بیوی سے یہی الفاظ "دہ زما خور دہ، دہ خور پہ شان مے دہ دے نہ بعد بہ زہ دے سرہ دہ خور او ورور غوندے ژوند تیروم" کہے ہوں تو ان الفاظ میں شوہر کی نیت کے مطابق حکم لاگو ہوگا، اگر احتراماً کہا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوگا، اگر طلاق کی نیت تھی تو ایک طلاق واقع ہوگی، ایلاء مراد تھا تو اس کا حکم لگے گا اور اگر ظہار مراد تھا تو پھر ظہار ہوگا۔ اگر ظہار مراد ہو اور تو جب تک کفارہ ظہار( ساٹھ روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا) ادا نہ کر لے بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا ۔ البتہ اگر عرف و عادت میں اور علاقائی محاورات میں لوگ بیوی کو "ماں، بہن" کہنے یا ان کے ساتھ تشبیہ دینے سے طلاق مراد لیتے ہوں اور عرف میں یہ الفاظ طلاق ہی کے مترادف سمجھے جاتے ہوں تو یہ طلاق کے حکم میں ہو کر اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی۔
ولو قال: أنت علي كأمي أو مثل أمي يرجع إلى نيته فإن نوى به الظهار كان مظاهرا، وإن نوى به الكرامة كان كرامة، وإن نوى به الطلاق كان طلاقا، وإن نوى به اليمين كان إيلاء؛ لأن اللفظ يحتمل كل ذلك إذ هو تشبيه المرأة بالأم فيحتمل التشبيه في الكرامة والمنزلة أي أنت علي في الكرامة والمنزلة كأمي ويحتمل التشبيه في الحرمة ثم يحتمل ذلك حرمة الظهار ويحتمل حرمة الطلاق وحرمة اليمين فأي ذلك نوى فقد نوى ما يحتمله لفظه فيكون على ما نوى.وإن لم يكن له نية لا يكون ظهارا عند أبي حنيفة وهو قول أبي يوسف۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في شرائط الظهار، ج:5، ص:8)
وأما حكم الظهار فللظهار أحكام: منها حرمة الوطء قبل التكفير۔ (بدائع الصنائع، كتاب الظهار، فصل في حكم الظهار، ج:5، ص:14)
والحاصل أن المتأخرين خالفوا المتقدمين في وقوع البائن بالحرام بلا نية حتى لا يصدق إذا قال لم أنو لأجل العرف الحادث في زمان المتأخرين، فيتوقف الآن وقوع البائن به على وجود العرف۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:4، ص:530)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں