بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مالِ حرام سے خلاصی کی صورت


سوال

ایک شخص نے اپنی ذاتی گھر کی تعمیر میں تقریباً دس لاکھ روپے خرچ کئے تھے اور یہ رقم حرام کی کمائی تھی(بحثیت سرکاری ملازم یہ پیسے بدعنوانی کرکے حکومت سے قبضے میں لئے تھے)۔ اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی اس حرام کی کمائی کا ازالہ کرے۔ سرکاری خزانہ میں اگر یہ رقم جمع کرنا چاہے تو سرکار اس پر مزید کیس بھی ڈال دیں گےجو اس نے نہیں کئے ہے اور لوگ اس کی نیکی کو بدنیتی میں تبدیل کردیں گے۔ رہنمائی کیجئے کہ اب وہ اس حرام کمائی کا ازالہ کیسے کرے؟ اس کے علاوہ چند سال قبل اس نےحرام کی کمائی سے اپنی بیوی کے لئے ایک تولہ سونے کی بالیاں بنوائی تھی، اب اگران پیسوں کو بھی لوٹانا چاہے تو آج کل کی حساب سے قیمت لگائے گا یا اسی سال (2005) کاحساب لگائے گا؟

جواب

           شریعتِ مطہرہ کی رو سے حرام مال کو اصل مالک  کی طرف لوٹانا ضروری ہے لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو پھر اس مال کو بلا نیتِ ثواب فقرا اورمساکین پرصدقہ کرنا ضروری ہے ۔

           صورت مسؤلہ میں(1) اگر حرام  رقم سے گھر وغیرہ کی تعمیر کی ہو تو توبہ کرکے جتنا حرام پیسہ اس میں استعمال کیا ہے حساب لگا کر اتنی ہی رقم  اصل مالک کو لوٹا دے،لیکن اگر اصل مالک معلوم نہ ہو تو خلاصی کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ گزشتہ گناہ پر  پشیماں اور نادم ہو کر استغفار کرے اور اس حرام مال کو بغیر نیتِ ثواب کے فقرا اور مساکین پرصدقہ کرے ۔

اسی طرح(2)حرام کی کمائی سے بیوی کے لیےایک تولہ سونے کی بالیاں بنوائی ہے اس میں بھی (2005) کا حساب لگائے  جتنا حرام پیسہ اس میں استعمال کیا ہے حساب لگا کر اتنی ہی رقم  اصل مالک کو لوٹا دے،ورنہ بغیر نیتِ ثواب کے فقرا اور مساکین پرصدقہ کرے ۔

 

والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله۔(الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية ، ج:5، ص:349)

لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔(ردالمحتار على الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة ، فصل فی البیع، ج:9،  ص:553)


فتویٰ نمبر : 5083/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں