بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
مورِث کی زندگی میں فوت شدہ وارث کا حقِ میراث
سوال
اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں، ایک بیوی شوہر کی زندگی میں فوت ہوجائے ، جبکہ دوسری بیوی شوہر کی وفات کے وقت زندہ تھی، اب سوال یہ ہے کہ بیوہ کو حصہ ملتا ہے لیکن شوہر کی حیات میں فوت شدہ بیوی کو حصہ نہیں ملتا اس کے متعلق قرآن و حدیث اور شریعت کے دلائل سے آگاہ فرمائیں۔
جواب
قرآن و حدیث کے نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ موت سے انسان کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے چنانچہ خود اس کا مملوک مال بھی اس کے ورثا میں تقسیم کر دیا جاتا ہے لہذا جب میت کی ملکیت خود اس کے اپنے مال سے ختم ہو جاتی ہے تو میت کسی اور کے مال میں سے کیسے کسی حصے کا حقدار بن سکے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ. . .(النساء:12) اس میں لام تمليك كے ليے ہے جس كا معنی یہ ہے کہ ”تم اس مال کے مالک ہو گے جو تمھاری بیویاں چھوڑے“ اسی طرح دیگر آیاتِ میراث میں بھی لام تملیک کے لیے ہے اور فوت شدہ شخص چونکہ کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا اس لیے مالِ میراث کا مالک بھی نہ ہوسکے گا۔اسی طرح حدیث میں ارشاد ہے کہ تین چیزیں میت کاپیچھا کرتی ہیں جس میں سے دو واپس ہو کر ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے،میت کے ساتھ اس کا مال، اس کے اہل وعیال اور اس کے اعمال جاتے ہیں پس اس کا مال اور اور اہل و عیال لوٹ جاتے ہیں جبکہ اعمال اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ موت سے انسان کا تعلق اس کےمال سے ختم ہوجاتا ہے۔لہذا کوئی انسان اگر فوت ہوجائے تو اس کی وفات کے وقت زندہ ورثا کا میراث میں حصہ ہوگا جبکہ میت کے مال میں سے میت سے قبل فوت شدہ افراد کا کوئی حصہ نہ ہوگاکیونکہ ان میں مالک بننے کی صلاحیت ہی نہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں شوہر سے قبل فوت شدہ بیوی کا مالِ میراث میں سے کوئی حصہ نہیں۔
قال الله تعالى: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ. (النساء:12)
حدثنا سويد بن نصر قال: أخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن أبي بكر هو ابن محمد بن عمرو بن حزم الأنصاري، قال: سمعت أنس بن مالك، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يتبع الميت ثلاث، فيرجع اثنان ويبقى واحد، يتبعه أهله وماله وعمله، فيرجع أهله وماله ويبقى عمله. ( سنن الترمذي، أبواب الزهد، باب ما جاء مثل ابن آدم وأهله وولده وماله وعمله، حديث:2379)
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الفرائض، شرائط الميراث، ج:6، ص:758)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں