بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

استاذ سے دیت كا مطالبہ کرنا


سوال

اگر استاذ شاگرد کو  سودا لانے کےلیے بازار بھیج دے  اور شاگرد سے راستہ میں کوئی چور موٹر سائیکل چھین کر اس کو قتل کردے  تو کیا شاگرد کے  رشتہ دار استاذ سے دیت  یا تاوان کا مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

           واضح رہے کہ ایک شخص پر دوسرے شخص کے نقصان کا تاوان تب لازم آئے گا  جب اس شخص نے قصداً وہ نقصان پہنچایا ہو یا وہ اس  کےلیے سبب ہو  لیکن اگر نہ  اس نے قصداً وہ نقصان پہنچایا ہو  اور نہ وہ اس کےلیے سبب ہو تو اس پر کوئی تاوان لازم نہیں آئے گا۔

            لہذا صورت مسئولہ میں اگر چہ استاذ نے شاگرد کو سودا لانے  کےلیے بازار  بھیجا ہے  لیکن  شاگرد کے قتل میں استاذ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اس وجہ سے  قتل کی نسبت استاذ کی طرف نہیں کی جائے گی اور نہ اس سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا۔

 

يشترط شيئان:التعمد والتعدي لأن يكون التسبب موجبا للضمان على ما ذكر آنفا في المادتين،يعني ضمان المتسبب في الضرر الناشيئ عن تسسبه مشروط بعمله فعلا مفضيا إلى ذلك الضرر عمدا وبغير حق،أي إذا كان قد  استعمله عمدا وتعديا كان ضامنا.(درر الحكام شرح مجلة الأحكام،ج:2،المادة:924،ص:611)


فتویٰ نمبر : 5091/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں