بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"میں اپنا فیصلہ دیتا ہوں"سے وقوع طلا ق کا حکم


سوال

ایک شخص کو اس کی والدہ نے کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو،تو اس نے جواب میں دو مرتبہ کہا میں نے فیصلہ دیا میں نے فیصلہ دیا ،کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

جواب

          اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے بجائے ایسے محتمل الفاظ کہے ،جن میں طلاق اور طلاق کے علاوہ دوسرے مفہوم کا  احتمال ہو ، تو ایسے الفاظ کنایہ کہلاتے ہیں ،اگر شوہر نے طلاق کی نیت کی یا مذاکرہ طلاق ہو یا حالت غضب میں ایسا کلام صادر ہوا ہو تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگی،ورنہ نہیں۔

            صورت مسؤلہ میں خاوند کے الفاظ"میں نے فیصلہ دیا"کنائی الفاظ ہیں جس میں نیت کا اعتبار ہوگا،اگر نیت طلاق کی ہو تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گی،جس کے بعد دوبارہ ازدواجی تعلق استوار کرنے کے لیے تجدید نکاح ضروری ہے۔

 

الكنايات(لاتطلق بها)قضاء(إلا بنية أو دلالة الحال)۔(الدر المختار على صدر رد المحتار:كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:4،ص:547)

وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة۔۔۔۔۔لانها تحتمل الطلاق وغيره،فلابد من النية۔۔۔۔۔۔۔(الهداية:كتاب الطلاق،فصل في الطلاق قبل الدخول،ج:2،ص:389)

إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة (الفتاوى الهندية:كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:535)


فتویٰ نمبر : 6469/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں