بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایکونیکس نیٹ ورک مارکیٹنگ کا حکم


سوال

ایکونیکس نامی ایک نیٹورک مارکیٹنگ کمپنی ہے  اس کے  ساتھ کام کرنے  کے لیے  ان کے   خاص پروڈکٹ(وٹامن اور کیلشیم کےکیپسول اور گرین ٹی)  خریدے بغیر آپ کمپنی  جوائن نہیں کر سکتے۔ کمپنی کا پیکج کے ساتھ کوپن کش بھی دیا جاتا ہے 3000 پر 9000 ،25000، 7000 ،40000 ،12000 ،57000 ،17000 کوپن کیش کے ذریعے آپ کمپنی سے خریداری پر ڈسکاؤنٹ حاصل کر سکتے ہیں ۔پیکج لینے کی بعد کوئی بھی جب آپ کے ذریعے سے کمپنی کا پیکج خریدے گا تو اس کا طے کردہ کمیشن(700) آپ کو بھی ملے گا اور جب دوسری طرف کوئی آئے گا تو اس کا بھی کمیشن(700) ملے گا اور پھر جوڑا مکمل ہونے پر binary کمیشن(500) الگ سے ملے گا binary کمیشن آپ کے پیکج کے حساب سے مقررہ کردہ فیصد پر ملے گا جو کہ متعین فیصد ہے ) اس طرح آپ کی ایک ٹیم بن جائے گی اور یہ سلسلہ نیچے تک چلتا رہتا ہے ،جب آپ کمپنی کے مقرر کردہ پوائنٹس حاصل کر لیتے ہیں تو آپ کا رینک بڑھا کر آپ کو کیش ریوارڈ سے بھی نوازا جاتا ہے حضرت مکمل دلائل کے ساتھ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتا دیں کہ یہ کام حلال ہے یا حرام؟

جواب

            ایکونیکس کمپنی کے اہداف ومقاصد ، طریقہ کار اور شرائط کو سامنے رکھتے ہوئےمعلوم ہوتا ہے کہ 1۔ایکونیکس کمپنی کا ممبر بننے کے لیےاوّلامخصوص رقم اداكركے اس كى مصنوعات ميں سے كوئى چيز خريدنی پڑتی ہے، جس کے بغیر کوئی شخص ممبر نہیں بن سکتا ۔یہ شرط شرعی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ اس میں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا لازم آتا ہے،جو شرعاً جائز نہیں۔2۔اسی طرح اس ممبر کی رجسٹریشن کی بنیاد پر جتنے آدمی بڑھتے جائیں گےان کا منافع اور کمیشن اس کو ملتا رہے گا چاہے وہ بالواسطہ ہوں یابلا واسطہ،جبکہ بالواسطہ افراد کی خریداری پر کمیشن لینا شرعا جائز نہیں ، کیونکہ اس میں کوئی عمل دخل نہیں اور بغیر عمل کے کسی سے اجرت لینا جائز نہیں۔3۔علاوہ ازیں کمپنی کی طرف سے کمیشن ملنا  پروڈکٹس کی  خریداری کے ساتھ مشروط ہے ، یہ شرط بھی شرعا جائز نہیں ۔

             لہذاان تمام مفاسد کی بنا پر ایکونیکس کمپنی کی ممبر شپ اختیار کرنا،کمیشن لینا اور ان کے ساتھ کاروبار کرنا شرعا جائز نہیں۔

 

قال الله تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾(سورۃ المائدۃ:90) 

وكذا بيع ما لم يقبضه البائع لورود النهي عن ذلك ۔۔۔وكذلك الصفقتان في صفقة نحو إن قال أبيعك هذا على أن تبيعني هذا؛ لأنه "نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن صفقتين في صفقة وعن بيعين في بيع" وصورته أن يقول: بعتك هذا بقفيزين حنطة أو بقفيزين شعيرا وهذا بيعان في بيع واحد وكذلك «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب البيوع،باب بيع الفاسد،ج:4،ص:361)

لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة، وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والانتقاص في كل واحد منهما فصار قمارا.وهو حرام بالنص،(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الخنثى،مسائل شتى،ج:7،ص:466)

 فلو جوزناه لكان استحقاقا بغير عمل ولم يرد به الشرع۔(الهدایة،کتاب المساقاۃ،ج:4،ص:430)

الأمور بمقاصدها:یعني أن الحکم الذی یترتب علی أمر یکون علی ما ھو المقصود من ذالک الأمر۔(شرح المجلة لسلیم رستم باز،المقالة الثانیة في بیان القواعد الفقهية،المادۃ:2،ص:17)


فتویٰ نمبر : 3152/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں