بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پرانے قبرستان کی جگہ جنازگاہ تعمیر کرنا


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک بہت بڑی جگہ قبرستان کے لیے وقف ہے۔ اور قبرستان کی نوعیت یہ ہے کہ وہ گاؤں کے قریب ہے۔ قبرستان بہت وسیع اور پرانا ہے، عرصہ دراز سے یہ کھیل کا میدان بن چکا ہے ، زیادہ کھیل کود کی وجہ سے یہ زمین ہموار ہو چکی ہے اور قبرستان کے نشان تک کا پتہ نہیں چل رہا، یہ زمین جس کے قبضے میں ہے وہ گاؤں کی مصلحت کے لئے کچھ حصے میں جنازگاہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ پراےقبرستان کو ہموار کرکے اس جگہ جنازہ تعمیر کرنا جائز ہے یا نہیں۔

جواب

            اگر  قدیم قبرستان میں موجود  قبریں اتنی پرانی ہوچکی ہوں  کہ ان میں دفنائی گئی مردے بالکل مٹی بن چکی ہوں، اور قبروں کے آثار مٹ چکے ہوں تو وہاں کی زمین کو ہموار کرکے اس میں دوبارہ قبرستان بنا سکتے ہیں اور اگر مملوکہ جگہ میں ہوں تو اس میں زراعت اور تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔

          صورتِ مسئولہ کہ مطابق اگر  قبرستان پرانا  ہو اور اس بات کا یقین ہو کہ قبروں میں دفنائی گئی مردے بالکل مٹی بن چکی ہیں ، اور قبروں  کے نشانات بھی مٹ چکے ہیں، تو  اس قبرستان کی زمین کو ہموار کرکے جنازگاہ تعمیر کرنا جائز ہے۔  

 

"و لو بلي الميت وصار ترابًا ‌جاز ‌دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه ۔(‌‌‌‌ الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،ج: 2،ص: 233)


فتویٰ نمبر : 5080/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں