بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پینٹ شرٹ کااستعمال


سوال

ضرورت کےوقت بطوروردی پینٹ شرٹ کااستعمال جائزہےکہ نہیں؟

جواب

             موجودہ دورمیں پینٹ شرٹ اگرچہ زیادہ ترغیرمسلم ممالک میں رائج ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض مسلم ممالک میں بھی اچھے خاصے لوگ پینٹ شرٹ استعمال کرتے ہیں،چونکہ یہ غیرمسلموں کامذہبی لباس نہیں،اس لیےاس کومذہبی شعارکہنا درست نہیں،تاہم ہمارے معاشرہ میں اسے مغربی لباس سمجھا جاتاہےاوراس کےاستعمال سےایسےلوگوں کےساتھ مشابہت لازم آتی ہے،جومغربی تہذیب سےزیادہ متاثرہوتےہیں،اس لیے کسی ضرورت کے بغیراس کےپہننےسےاحترازبہترہےاورجہاں سکول،کالج یاملازمت میں بطور وردی استعمال کرناضروری ہووہاں اس کےپہننےمیں کوئی حرج نہیں۔

            یاد رہےکہ یہ حکم اس پینٹ کےبارےمیں ہےجواتناچست نہ ہوکہ جسم کےاعضاکاحجم اس میں نظرآئے۔چنانچہ اگرکوئی لباس اتنا تنگ ہوکہ اس میں جسم کےاعضا کا حجم نظرآتاہوتواس کاپہنناجائزنہیں۔

 

لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها ۔۔۔۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الحظروالإباحة،فصل في النظروالمس،ج:9،ص:526)


فتویٰ نمبر : 5072/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں