بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

بیٹےکاباپ کی زندگی میں میراث کامطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیدادفروخت کرناچاہتاہے،مگراس کاایک بیٹا اسےجائیدادفروخت کرنے سےروک رہاہےاوراپنےحصےکامطالبہ کرتاہے۔کیاشرعابیٹےکویہ اختیارہےکہ وہ باپ کی زندگی میں اس سے حصہ میراث کامطالبہ کرے؟

جواب

          باپ اپنی مملوکہ جائیدادمیں خودمختارہے۔وہ اس میں جس طرح چاہےتصرف کرسکتاہے۔شرعاکوئی بیٹااس کومنع کرنےکااختیارنہیں رکھتااورنہ ہی باپ کی زندگی میں اس کی جائیدادمیں کسی حصےکامطالبہ کرسکتاہے۔ہاں اگرباپ خودہی اپنی خوشی سےمال اپنےبیٹےکودیناچاہےتویہ اس کے دائرہ اختیارمیں ہےاوراس صورت میں یہ اس کی طرف سےہبہ،تبرع  اوراحسان شمارکیاجاتاہے۔

 

الإرث يثبت بعد موت المورث۔(البحرالرائق،كتاب الفرائض،ج:9،ص:364)


فتویٰ نمبر : 5073/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں