بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سیاہ خضاب لگانا


سوال

سیاہ خضاب لگاناجائزہےکہ نہیں؟برائےمہربانی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

         احادیث مبارکہ میں سیاہ خضاب سےمنع فرمایاگیاہےاس لیےحنفیہ کےراجح قول کے مطابق ایسا خضاب یارنگ لگاناجس سےبالوں کارنگ بالکل کالاہوجائے،مکروہ تحریمی ہے۔البتہ اگرمجاہدبوقت جہاددشمن پر رعب طاری کرنےکےلیےلگائےتوجائزہے۔اس کےعلاوہ اگرکوئی شخص محض زینت کےلیےاستعمال کرےتاکہ اپنی بیوی کوخوش کرےتواکثرفقہاےکرام نےاسےبھی مکروہ قراردیاہے،البتہ امام ابویوسف اس کے جوازکےقائل ہے۔

 

عن جابر بن عبد الله قال أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم * غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد۔(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب استحباب خضاب الشيب،ج:2،ص:199)

وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه ۔۔۔۔ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة۔(الفتاوی الھندیة،كتاب الكراهية،الباب العشرون في الزينة،ج:5،ص:259)


فتویٰ نمبر : 5074/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں