بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

"تہ ماباندے خور ،مور،ترورئے،تہ پہ ماباندے طلاقہ ئے"کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

کہ عنایت نے اپنی بیوی  سے کہا کہ ''اگر آپ میری ماں کی خدمت نہیں کروگی اور میری ماں سے  لڑائی جھگڑا کروگی تو''تہ ما باندے خور ،مور،ترورئے،تہ پہ  ما باندے طلاقہ ئے''۔اس کے بعد لڑائی جھگڑا ہوگیا۔زوجہ کا بیان یہ ہے کہ شوہر نے مجھ سے یہ الفاظ دو دفعہ دہرائے ۔یعنی پہلی دفعہ کہا:''تہ ماباندے خور ،مور ترورئے،تہ پہ ما باندے طلاقہ ئے''۔پھر کہا  کہ آنکھیں اٹھاؤ اور کہا:تہ ماباندے خور،مور ،،ترورئے،تہ ماباندے طلاقہ ئے"،اگر تونے میری والدہ سے لڑائی کی۔جب کہ شوہر کا بیان ہے کہ میں نے یہ الفاظ ا یک دفعہ بولے ہیں ،دودفعہ نہیں ۔ اس میں زوج اور زوجہ کے لیے کیا حکم ہے؟

نوٹ: نیز ہمارے ہاں عرف :تیرہ میں الفاظ("تہ ماباندے خور ،مور،ترورئے،تہ پہ ماباندے طلاقہ ئے")طلاق ہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔نیز اس عورت کے تین بچے بھی ہیں ؟

جواب

          مذکورہ بیان میں خاوند نے دو قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں (1)تہ ماباندے خور، مور،ترورئے۔(2)تہ پہ ما باندے طلاقہ ئے۔

پہلا جملہ"تہ ماباندے خور،مور،ترورئے")تو میری بہن ،ماں ،خالہ ہے (اس میں حروفِ تشبیہ نہ ہونے کی وجہ سے ظہار واقع نہیں ہوتا،البتہ اگر کسی علاقے کے عرف عام اور محاورہ میں بیوی کو ماں ،بہن،خالہ کہنا طلاق کے مترادف ہو اور وہاں لوگ بیوی کو یہ الفاظ طلاق دینے ہی کے لیے استعمال کرتے ہوں ۔ تو اس خاص عرف کے لحاظ سے یہ الفاظ  طلاق بائن شمار ہوکر اس سے طلاق بائن واقع ہوگی،جب کہ''تہ پہ ماباندے طلاقہ ئے''طلاق کے وقوع میں صریحی ہیں ۔اس لیے دوسری طلاق بھی واقع ہوگی۔جہاں تک تعداد طلاق میں اختلاف کا مسئلہ ہےتو اگر عورت زیادہ طلاق کا دعوی کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہوں تو اس کے قول کا اعتبارہوگاورنہ شوہرکا قول مع الیمین معتبر ہوگا۔

             لہذا صورت مسؤلہ میں ایک دفعہ مذکورہ الفاظ کہنےسےدو بائن طلاقیں واقع ہوئی ہیں ۔جس میں دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے طرفین کی رضامندی سے تجدید نکاح ضروری ہے۔اگر عورت کے پاس اپنے اس  دعوی پر شرعی گواہ (دو مرد یاایک مرد دو عورتیں)موجود ہوں کہ شوہر نےدو مرتبہ یہ جملےدہرائے ہیں اور وہ گواہ عورت کے دعوی کے مطابق گواہی دے دیں،تو تیسری طلاق بھی واقع شمارہوگی،لیکن اگر گواہ پیش نہ کر سکے،تو شوہر سے اس دعوی کی تردیدپر قسم لی جائےگی ،اگراس نے قسم اٹھالی تو فیصلہ شوہر کے حق میں ہو کرتیسری طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

وإن نوى بأنت علي مثل أمي)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته)۔۔۔۔۔۔۔ لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه۔(الدر المختار على صدر ردالمحتا ر،كتا ب الطلاق ،باب الظهار،ج:3،ص:470 )

ونصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) (أو رجل وامرأتان) ۔(الدر المختار على  صدر رد المحتار،كتاب الشهادات،ج:11،ص:97،96)


فتویٰ نمبر : 6461/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں