بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کی چیزیں ذاتی مفادات میں استعمال کرنا


سوال

 آپ سے مندرجہ ذیل امور میں رہنمائی مطلوب ہے ۔ ۱۔ مدرسے سے متعلق کسی کام سے آنے والے مہمان کےلئیے مدرسے کے مطبخ سے کھانا، چائے، مدرسے کی بجلی وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟ ۲۔ اگر کوئی مہمان اپنی ذاتی غرض سے آیا ہو یا مدرسے کے عملے میں سے کسی کا ذاتی مہمان ہو تو اس کےلئیے مدرسے کے مطبخ سے کھانا، چائے، مدرسے کی بجلی وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

           مہتمم کو طلبہ کے اخرجات یا مدرسہ کے دوسرے مصالح کے لیے لوگ جو چندہ دیتے ہیں وہ اس کے پاس امانت کے حکم میں ہوتی ہے،جو اسی کام میں صرف کرنا لازم ہے جس کام کے لیے ان لوگوں نے چندہ دیا ہو اس سے ہٹ کر ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا خیانت ہے۔

          لہذا مہتمم یا مدرس کےلیے ذاتی مہمانوں کو مدرسہ کے مطبخ سے کھانا ،چائے ،مدرسے کی بجلی وغیرہ استعمال کرنا جائز نہیں ۔اگر کہیں ایسا موقع پیش آجائے کہ ذاتی مہمانوں کو مدرسے کی چیزیں استعمال کرائی جائیں، تو اس کے بقدر پیسے مدرسہ میں جمع کئے جائے اس سے فراغ ذمہ حاصل ہوسکتا ہے۔

 

الوکیل أمین فیما  فی یدہ کالمودع ،فیمن بما یضمن به المودع۔ (شرح المجلة،الكتاب الحادي عشر في الوكالة،الباب الاول،ج:4،ص:404)

ويشترط أن يكون الصرف تمليكالا إباحة كما مرلايصرف إلى بناءنحومسجد ولا إلى كفن ميت وقضاء دينه۔وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني۔(الدرالمختار،ج:2،ص:344)

الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحةالمسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به۔(البحرالرائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:233)


فتویٰ نمبر : 2/297/326

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں