بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لہسن میں مستقبل کی طرف منسوب بیع کا حکم


سوال

كئی سالوں سے لہسن کے بارے میں ایک عقد جاری ہے جس کی ابتدائی معلومات یہ ہیں کہ مذکورہ لہسن اکتوبر کے مہینے میں کاشت کیا جاتا ہے اور مئی کی ابتدا میں تخم مکمل ہوکر لیا جاتا ہے،اکتوبر سے پہلے یا اکتوبر کے بعد بھی عقد ہوتا ہےجس میں لہسن کی قیمت بوقتِ عقد موجودہ مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے مقرر کر دی جاتی ہے کل خرید شدہ رقم کا پچاس فیصد ایڈوانس  ادا کرنا ضروری ہوتا ہےجبکہ بقایا رقم مشتری ہے کو لہسن حوالہ کرنے پر لازم ہوتا ہے۔ عقد میں یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ اگر بائع عقد سے پھر گیا تو ایڈوانس رقم  کا دوگنا ادا کرنے کا پابند ہوگا اور اگر مشتری پھر گیا  تو اس کی ادا شدہ ایڈوانس رقم ضبط ہوگی البتہ قدرتی آفت کی صورت میں  بائع مشتری کی طرف سے اداشدہ ایڈوانس رقم ایک ہفتہ کے اندر ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ سوالات یہ ہیں:مذکورہ عقد بیوع کی کونسی قسم میں داخل ہے؟کیا عقد میں مذکورہ شرائط شریعت کے مطابق ہیں یا نہیں؟ مذکورہ شرائط کے تحت مکمل ہونے والا عقد  جب کہ بائع و مشتری کا قبض بھی تام ہوچکا ہو اس کے نتیجہ میں بائع و مشتری کو حاصل ہونے والا نفع جائز ہوگا یا نہیں؟آئندہ کے لیے کوئی لہسن کا ایڈوانس عقد کرنا چاہے تو کن شرائط کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا؟نیز ابھی سے مذکورہ لہسن  کے بارے میں ایڈوانس کا بکنگ جاری ہے شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

            واضح رہے کہ خرید وفروخت میں جب رقم  ایڈوانس  دے کر مبیع بعد میں حوالہ کرنے کا معاملہ ہو تو اس کو فقہا کی اصطلاح میں بیع سلم کہا جاتا ہے جس کے لیے فقہا کے بیان کردہ شرائط میں سے کچھ شرائط یہ ہیں کہ رقم  پوری کی پوری  مجلس عقد ہی میں حوالہ کی جائے  ، مبیع کی جنس اور صفت بیان کردی جائےتاکہ مبیع متعین ہو جائے اور اس کے علاوہ مبیع کی حوالگی کی مدت بھی اس طور پر بیان کر دی جائے کہ بعد میں اختلاف کا سبب نہ بنے۔

                صورت مسئولہ میں بیان کردہ عقد صورتاً  بیع سلم کی طرح  ہے لیکن سلم کی شرائط میں سے نہ تو قیمت مجلس عقد میں ادا کرنے کی  شرط پوری ہے کیونکہ بیان کردہ عقد میں ایڈوانس رقم آدھی دینے کا تذکرہ ہے جبکہ    سلم میں پوری رقم  مجلس عقد ہی میں ادا کرنا لازمی ہوتی ہے اسی طرح   مبیع کی حوالگی  کا وقت بھی  متعین نہیں  اس وجہ سے مذکورہ عقد کو بیع سلم شمار نہیں کیا جا سکتا، البتہ جواز کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ یا تو  سلم کی تمام شرائط کا لحاظ رکھ کر بیع  سلم  کیا جائے یا وعدہ بیع کی صورت اختیار کی جائے جس میں صرف بیع کا وعدہ کیا جائے اور بعد میں جب حوالگی کا وقت آئے تو ایجاب و قبول کرکے عقد  کیا جائے  لیکن بوقت وعدہ یہ واضح کر دیا جائے کہ ابھی صرف وعدہ  ہو رہا ہے بعد میں ایجاب و قبول کیا جائے گا۔ اسکے علاوہ  عاقدین کا  یہ شرط لگانا کہ اگر کوئی عقد سے انکار کرے تو ایڈوانس ضبط ہوگا یا ایڈوانس  ڈبل ادا کرنا ہوگا یہ جائز شرائط نہیں  تاہم  مذکورہ شرائط کے ساتھ اگر کوئی عقد ہوا ہو اور  پایہ تکمیل تک بھی پہنچ چکا ہو تو ایسی صورت میں عقد سے حاصل ہونے والا فائدہ جائز ہوگا۔

 

قال الله تعالى : وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا ـ (الإسراء:34)

(وما لا تصح ) إضافته (إلى المستقبل) عشرة (البيع وإجازته وفسخه والقسمةوالشركةوالهبة والنكاح والرجعة والصلح عن مال و الإبراء عن الدين) لأنها تمليكات للحال فلا تضاف للاستقبال۔ (الدر المختار، فرع، ج 5، ص 256)

بيع العربون أَن يدْفع المشْتَرِي للْبَائِع شيأ على أَنه أَن رضيه فَمن الثّمن وَإِلَّا فهبة وَهُوَ بَاطِل عِنْد الثَّلَاثَة دون أَحْمد. (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، حرف العین، ج:2، ص:154)

والمبيع بيعاً فاسداً يملك بالقبض فإذا باعه بعد القبض وجب أن يجوز. (فتاوى قاضي خان، كتاب الشرب، فصل في الأنهار، ج:3ِ ص:108)

وشرائطه: تسمية الجنس والنوع والوصف والأجل والقدر ومكان الإيفاء إن كان له حمل ومؤونة، وقدر رأس المال في المكيل والموزون والمعدود، وقبض رأس المال قبل المفارقة. ( الإختيار لتعليل المختار، كتاب البيوع، باب السلم، ج:2، ص:34)


فتویٰ نمبر : 3055/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں