بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تکبیرِ اولیٰ ملنے کی حد


سوال

تکبیر ِاولیٰ کی وضاحت فرما دیں نیز با جماعت نماز میں تکبیرِ اولیٰ کا وقت کتنا ہوتا ہے؟ یعنی کب تک نماز میں شامل ہوں تو وہ تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ شامل ہونا تصور کیا جائےگا؟

جواب

           تکبیرِ تحریمہ کو تکبیرِ اولیٰ کہتے ہیں ،اگر مقتدی نے پہلی رکعت کا رکوع پالیا، تو صحیح قول کے مطابق تکبیرِ تحریمہ (تکبیرِ اولیٰ) کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، البتہ افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ مقتدی تکبیر ِتحریمہ کے وقت حاضر ہو، اور امام کی تکبیر ِتحریمہ کے فوراً بعد مقتدی بھی تکبیرِتحریمہ کہہ کر نماز میں شامل ہوجائے۔‌

 

واختلف ‌في ‌إدراك ‌فضل ‌التحريمة ‌على ‌قولهما فقيل إلى الثناء كما في الحقائق وقيل إلى نصف الفاتحة كما في النظم وقيل في الفاتحة كلها وهو المختار كما في الخلاصة وقيل إلى الركعة الأولى وهو الصحيح كما في المضمرات۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، ‌‌فصل في بيان سننها، ص:258)

أما فضيلة تكبيرة الافتتاح فتكلموا في وقت إدراكها والصحيح ‌أن ‌من ‌أدرك الركعة الأولى فقد أدرك فضيلة تكبيرة الافتتاح۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الأول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:69)


فتویٰ نمبر : 9227/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں