بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

مکان کی تعمیر کے لیے قرض لینا


سوال

ایک بندے كو اپنا مکان از سر نو بنوانے کے لیے کچھ رقم کی ضرورت ہے، لیکن اس كے پاس پيسے نہیں ہیں، تو اس نے ہم سے کہا کہ مجھے 30لاکھ روپے دے دیں میں آپ کو چار یا پانچ لاکھ اضافے کے ساتھ واپس بخوشی لوٹا دوں گا ،۔ مفتی صاحب میرے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن اگرمیں کسی تیسری پارٹی سے رقم قرض لے کر مکان کی مرمت کر کے صاحب مکان کو دے دوں اور اس كو کہوں کہ آپ کو مکان 36 لاکھ میں پڑا ہے اور وہ اس پر راضی بھی ہو اور تیس لاکھ سے اوپر کا نفع قرض دینے والی پارٹی کو دے دوں تو کیا یہ صورت جائز ہے ؟ نيز اگر یہ معاملہ درست نہیں تو کوئی جواز کی کوئی ایسی صورت بتا دیں جس سے دونوں فریقیں کا نظام چل جائے؟واضح رہے اس سارے معاملے میں میرا کردار کنڑیکٹر (ٹھیکیدار)کا ہے اورمکان کی مرمت پر تیس لاکھ روپے کی لاگت آئے گی جبکہ میرا نفع 30 لاکھ کے اندر ہی ہے۔

جواب

            قرض پر اضافی منافع  مشروط طور پرحاصل ہوں ،تو وہ سود کہلاتا ہے اور شریعت نے ہر قسم کے سودی معاملے کو حرام قرار دیا ہے۔ سوال میں ذکر کردہ صورت میں سائل کا کسی شخص سے تیس لاکھ قرض کے طور لےکراس کو   نفع دینا  سود ہونے کی وجہ سےجائزنہیں ۔البتہ اس کے متبادل کے طور پرجائز صورت یہ ہوسکتی ہے  کہ  تیسرے شخص سے  تیس لاکھ روپے کاروبار کے طور پر لیےجائیں، اور باہمی رضامندی سے کاروبار میں حاصل ہونے والے منافع آپس میں فیصد کے اعتبار سے  طے کرلیےجائیں ۔ پھراس رقم سے گھر  تعمیرکرلیا جائے  اور وہ مالک زمین  کو مثلاً چھتیس لاکھ میں فروخت کیا جائے اورمنافع آپس میں طے شدہ تناسب کے حساب سے تقسیم کرلیےجائیں۔  

 

عن جابر رضى الله عنه قال:لعن رسول الله ﷺأكل الربوا،وموكله،وكاتبه،وشاهديه،وقال:هم سواء۔(الصحيح للمسلم،كتاب البيوع،باب الربوا:ج:2،ص:27)

وإذا رجح في بدل القرض ولم يكن الرجحان مشروطا في القرض فلا بأس به كذا في المحيط ۔قال محمدرحمه الله تعالى في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به۔(الفتاوى الهندية،الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض،ج:3،ص:203)

وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه۔۔۔۔فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.(الدر المختار،مطلب في أجرت الدلال،ج:6،ص:63)


فتویٰ نمبر : 3116/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں