بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی زمین اور چندے پر مدرسہ بنانا


سوال

کیا مسجد کی زمین اور پیسوں  پر مدرسہ تعمیر کرنا جائز ہے ؟

جواب

           مسجد شرعی بننے کے لیے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے(1)وقف کرنے والے شخص نے باقاعدہ مسجد کے لیے وقف کی ہو۔(2)موقوفہ زمین کو واقف نے اپنی ملک یا دوسرے کی ملک سے اس طرح علیحدہ کردیا ہو کہ اس کا یا کسی اور کا حق اس سے متعلق نہ ہو۔(3)مالک زمین کی اجازت سے اس میں کم از کم ایک مرتبہ باجماعت نماز ہوچکی ہو۔اگر یہ تینوں باتیں پائی جائیں تو مسجد شرعی کے احکام جاری ہوں گے اور شرعا مسجد شرعی کی زمین کو مسجد کے علاوہ مصارف میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

           اسی طرح مسجد کے لیے جو لوگ پیسے یا چندہ دیتے ہیں عموما یہ مسجد ہی کے مصالح ومصارف کے لیے دیے جاتے ہیں اس لیے اس کو مدرسہ میں صرف کرنا درست نہیں تاہم اگر چندہ دہندگان کی طرف  سے مدرسے میں استعمال کرنے کی اجازت ہوتب یہ پیسے یا چندہ مسجد کے ساتھ خاص نہ ہوگابلکہ مسجد ومدرسہ دونوں میں خرچ کرنے کی گنجائش ہوگی۔

 

من بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلا؛ لأنه لا يخلص لله تعالى إلا به۔۔۔وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلي فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا، كما قال محمد - رحمه الله تعالى - رواية الحسن، كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوى الهندية:كتاب الوقف،الباب الحادي عشر،ج:ِ2،ص:408)

فإذا تم ولزم لا يملك۔۔۔(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك(رد المحتار على الدر المختار:كتاب الوقف،ج:6،ص:352)

وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك، إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف(الفتاوى الهندية:كتاب الوقف،الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره:ج:2،ص:463)


فتویٰ نمبر : 5087/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں