بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے نماز عید کاحکم


سوال

عورتوں کے لیے نمازعید  میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

              ازروئے شرع خواتین  کے لئے فرض نمازیں اپنی  رہائش گاہ میں ادا کرنے کا حکم ہے، نبی کریم ﷺ کے فرمان کا ترجمہ ہےکہ۔'' عورت کاگھرمیں نماز پڑھنا بہتر ہےاس کا حجرے میں نماز پڑھنے سے ،اور گھر کے  کمرے میں نماز پڑھنا بہتر ہے گھر کے احاطہ میں نماز پڑھنے سے'' ۔حدیث میں جب فرض نماز کے بارے میں عورتوں کویہی ترغیب دی گئی ہےکہ وہ  گھروں میں نماز  پڑھ لیا کریں ،کیونکہ یہ صورت فتنہ وفساد سے دور اور عورتوں اور مردوں کے حق میں زیادہ پاکدامنی  کاباعث ہے ۔ شرعاچونکہ عورتوں پر عید کی نماز واجب ہی نہیں اس لیے بطریق اولی نماز عید کے لیے باہر نکلنے سے اجتناب ضروری ہے ۔

         لہذا صورت مسؤلہ میں عورتوں کے لیے نماز عید میں شرکت سے اجتناب ضروری ہے۔

 

عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها۔(سنن أبي داود،كتاب الصلوة،باب ما جآء في خروج النساء الى المسجد،ج:1،ص:156)

 قال: ويكره لهن حضور الجماعات: أي يكره للنساء(يعني الشواب منهن)وهي جمع شابة، وهذه اللفظة بإطلاقها تتناول الجمع والأعياد والكسوف والاستسقاء۔۔۔۔۔۔۔وليس على النساء خروج العيدين وكان ترخص لهن في ذلك قال: وقال أبو حنيفة: فأما اليوم فإني أكره لهن ذلك وأكره لهن شهود الجمعة۔(البناية شرح الهداية،حضور النساء للجماعات،ج:2،ص:354)


فتویٰ نمبر : 9228/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں