بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ استعمال کرنا


سوال

ایزی پیسہ اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

           ایزی پیسہ اکاؤنٹ ایک ایسی سہولت ہے جس میں جمع کردہ رقوم سے اکاؤنٹ ہولڈر کئی قسم کی سہولیات حاصل کر سکتا ہے مثلا:بلوں کی ادائیگی،رقوم کی منتقلی اور ایزی لوڈ وغیرہ۔ اس میں جمع کردہ رقم کی حیثیت شرعاً قرض کی ہوتی ہےاور کسی کو قرض دینا شرعاً جائز ہے،اس لیے ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھولنا فی نفسہ جائز ہے تاہم اگر کمپنی والے اکاؤنٹ میں مخصوص رقم کے موجود ہونے کی شرط پر اکاؤنٹ ہولڈر کواضافی رقم،فری منٹس،فری ایس ایم ایس(SMS) اور فری انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولیات فراہم کرتی ہو تو ایسی صورت میں کمپنی کی طرف سے ملنے والی سہولیات قرض پر مشروط منافع ہونے کی بنا پر سود کے زمرے میں داخل ہیں،اس لیے اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے مذکورہ منافع استعمال  کرنا جائز نہیں۔

 

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) ‌أي ‌إذا ‌كان ‌مشروطا ‌كما ‌علم ‌مما ‌نقله ‌عن ‌البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔۔۔۔ ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به ۔( رد المحتار على الدر المختار ، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، مطلب:كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166)


فتویٰ نمبر : 3060/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں