بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پولیو پلانے والےادارے میں کام کرنا


سوال

ہمارے ملک  میں مختلف این جی اوز مصروف عمل ہیں جن میں سے ایک پولیو بھی ہے براہ کرم اس محکمے میں ملازمت اختیار کرنا کیسا ہے نیز یہ محکمہ بعض افراد کو مشوروں کے لیے یا شرعی ایڈوائزر کے رو سے لیتے ہیں ۔ کیا ان کے ساتھ کام کرنا جائز ہے؟

جواب

         پولیو کے شرعی احکام کا دار ومدار طبی تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج پر ہے، اگر موجودہ طبی ماہرين پولیو کے قطرات کو بچوں کے لیے مفید قرار دیتے ہیں اور بیماری سے بچاؤ کا ذریعہ ہے  اور مضرِ صحت مواد پر مشتمل نہیں ہیں تو ان قطروں کا بچوں کو پلانا جائز ہے لہذا  پلانے والے ادارے کے تحت کام کرتے ہوئے تنخواہ لینا  بھی جائز ہے۔

 

وصرح في التحرير بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية والشافعية. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:105)

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أنزل الداء والدواء، وجعل لكل داء دواء فتداووا...(سنن أبي داؤد، كتاب الطب، باب في الأدوية المكروهة، ج:4، ص:7، حديث:3874)


فتویٰ نمبر : 3088/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں