بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مفتی کا مستفتی سے گواہوں کامطالبہ کرنا
سوال
یہاں پر اکثر لوگ مفتیان حضرات سے رضاعت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ فلاں میاں بیوی نے کسی زمانے میں اکٹھے دودھ پیاہےاس كے جواب ميں مفتی یا امام مسجد صاحبان پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس گواہ ہیں؟ اگر وہ کہیں کہ ہمارے پاس تو گواہان نہیں ہیں تو کہتے ہیں کہ اس صورت میں حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی ،یہاں تک تو ہمیں کوئی اشکال نہیں ، البتہ ہمارا اشکال یہ ہے کہ مفتی یا امام مسجد کیلے شرعی معاملات میں گواہوں کو طلب کرنے کے متعلق کیا ضابطہ ہے جبکہ گواہوں کو طلب کرنا ایک قاضی کا کام ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ شھادت میں قاضی کی عدالت اورمجلس قضا میں گواہی دینا ضروری ہے،اس لیے کہ شھادت حجت ملزمہ تب بنتی ہے جب مجلس قضا میں ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق مفتی یاامام مسجد اگر کسی تنازع /شرعی معاملہ میں حَکَم نہ ہوتوپھر اس کے لیےاپنے سامنے گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کرنا درست نہیں،اور نہ ہی مستفتی پر اس کے سامنے گواہ پیش کرنا لازمی ہے۔تاہم مفتیان کرام یا ائمہ مساجدجب مستفتی سےگواہ کے بارے میں پوچھتے ہیں توان کا مقصد اپنے سامنےگواہ پیش کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف مسئلہ کی نوعیت کو سمجھ کراس کے مطابق شرعی حَل سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔
وأما الذي يخص المكان فواحد، وهو مجلس القاضي؛ لأن الشهادة لا تصير حجة ملزمة إلا بقضاء القاضي فتختص بمجلس القضاء۔ (بدائع الصنائع، كتاب الشهادة، فصل في شرائط ركن الشهادة، ج:9، ص:53)
(وهي) إن (على حاضر يحتاج) الشاهد (إلى الإشارة إلى) ثلاثة مواضع أعني (الخصمين والمشهود به لو عينا) لا دينا (وإن على غائب) كما في نقل الشهادة۔ (الدرالمختار على صدر ردالمحتار،كتاب الشهادت،ج:5، ص:466)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں