بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حقائق کے برعکس ملازمت حاصل کرنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص سرکاری حقائق کے برعکس جعلی دستاویزات پیش کرے اور  جعلی دستاویزات کی بدولت اس کو ملازمت مل جائے تو کیا اس ملازم کے لیے تنخوا ہ لینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

           واضح رہے کہ سرکاری حقائق کے بر عکس جعلی دستاویزات کے ذریعے  ملازمت حاصل کرنا جائز نہیں   ،اس لیے کہ یہ جھوٹ ،دھوکہ دہی  اور دوسروں کے حقوق  پر ڈاکہ ڈالنے جیسےسنگین گناہوں کا مجموعہ  ہے ۔

              صورت مسؤلہ کے مطابق جب کوئی شخص سرکاری حقائق کے برعکس جعلی دستاویزات کے ذریعے ملازمت حاصل کرلے تو اگر وہ مفوضہ ڈیوٹی سرانجام دینے پر قادر ہو تو اس شخص کے لیے تنخوا ہ لیناحلال ہے ،لیکن ملازمت حاصل کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے یہ طریقہ ناجائز اور حرام ہے،جبکہ نا اہلیت کی صورت میں تنخواہ لینا بھی جائز نہیں ۔

 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَسَأَلَهُ كَيْفَ تَبِيعُ؟ فَأَخْبَرَهُ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ» ۔( سنن أبي داود ،باب النهي عن الغش ،ج:3،ص:272)

تنعقد الإجاره بالإجاب والقبول كالبيع۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ،المادة:433،كتاب الإجارة،الباب الثاني في مسائل المتعلقة بالأجرة،ص:243)

يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:448،كتاب الإجارة،الباب الثاني في مسائل المتعلقه بالأجرة،ص:254)

 


فتویٰ نمبر : 3098/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں