بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی پر پابندی کے لیے شرائط عائد کرنا


سوال

کیا شوہر بیوی پر مندرجہ ذیل  شرائط کی پابندی لازم کر سکتا ہے : ١. لڑکی اپنا کوئی ذاتی موبائل فون استعمال نہیں کرے گی۔ ٢. سرکاری نوکر صرف باہر کے کام کرے گا اور گھر کے اندر صرف شوہر کی موجودگی میں آئے گا ۔ ٣. اگر شوہر سے  کوئی شکایت ہو تو شوہر کے  ساتھ اس کا ذکر کرنے کے باوجود اگر حل نہ نکلے تو دوسرے رشتے داروں کوبتانے کے بجائے شوہر کے  والدین سے رجوع کرے گی۔ ٤.گھر سے باہر جانا اگر اشد ضروری ہو تو مکمل شرعی پردے کے ساتھ جائے گی۔ ٥. اپنے اور شوہر کے  نامحرم رشتہ داروں سے مکمل شرعی پردہ کرے گی۔ ٦.فضول خرچی اور لاپروائی کے معاملے میں،  اگر اسے اللہ تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے دائرے میں کوئی بات کہی جائے تو نافرمانی نہیں کرے گی ۔ ٧. شوہر اس کے جملہ شرعی حقوق ادا کرتے ہوئے اگر دوسری شادی کرے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔

جواب

            شریعت مطہرہ نے عورت پر خاوند کی اطاعت کو ضروری قرار دیا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے نبی اکرم ﷺا نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کیلئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔  ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا اگر کوئی عورت پانچ نمازوں کو ادا کرے اور اپنی عزت کی حفاظت کرے اور خاوند کی اطاعت کرے وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے ۔ اس حدیث سے معلوم ہو ا کہ خاوند کی اطاعت بیوی کے لیے جنت میں داخلے کا باعث ہے البتہ  خلافِ شرع امور میں شوہر کی اطاعت ضروری نہیں ہے،  بلکہ شوہر اگر بیوی کو کسی معصیت کا حکم کرے، تو بیوی کے لیے اس کی بات ماننا جائز نہیں ہے۔

            صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شرائط  جیسے موبائل نہ رکھنے کی شرط، گھر میں شوہر کی عدم موجودگی میں نوکر کے داخل نہ ہونے کی شرط، شوہر سے متعلق کسی شکایت کو عام  لوگوں پر ظاہر نہ کرنے کی شرط،باہر نکلتے وقت مکمل شرعی  پردہ کرنے کی شرط، غیر محرموں سے بات نہ کرنے کی شرط، فضول خرچی اور لاپرواہی کرنے کی صورت میں بیوی کو شریعت کی روشنی میں نصیحت کرنے کی شرط اور شوہر کے شرعی حقوق ادا کرتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی شرط  یہ تمام شرائط شریعت کے مطابق ہیں ، ان میں سے کوئی شرط شریعت سے متصادم نہیں۔ نیزمرد و عورت دونوں کو  خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے عفو و درگزر کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے۔ مرد کو چاہیے کہ بیوی کے حقوق کو ادا کرے اور بیوی کے ساتھ نرمی و شفقت والا معاملہ کرے اسی طرح بیوی کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خاوند کی اطاعت کرے۔

 

عن أبی هريرة، عن النبی صلی الله عليه وسلم قال: لو کنت آمرا أحدا أن یسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها (جامع الترمذي، أبواب الرضاع والطلاق، باب ما جاء في حق الزوج علی المرأة، ج:1، ص:219)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ. (سنن النسائي: 3231)

وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف. (مشکاة المصابیح، کتاب الإمارة والقضا، الفصل الاول، ج:2، ص:335)


فتویٰ نمبر : 6476/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں