بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بہن كو ميراث سے محروم كرنا


سوال

اگر کوئی شخص فوت ہوجائےاور اس کے ترکہ میں مال وجائیداد ہو،جس پر اس کے بیٹے قابض ہوکر  بہنوں کو محروم کریں اورچند سال گزرنے   کے بعد بہنیں میراث کا مطالبہ کریں،تو کیا  اتنی مدت کے بعد بہنوں کو میراث میں حصےکا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

              والدین کے ترکہ میں جس طرح  نرینہ (مذکر) اولاد کا حق  ہوتا ہے، اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق  ہوتا ہے، والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا خود  قبضہ کرلینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور سخت گناہ ہے۔نیزبیٹیوں کےاپنے باپ کے میراث میں چند سال تک حصہ  نہ مانگنے سے  اورخاموش رہنے سے ان کے میراث کا حق ساقط نہیں ہوتا۔

            صورت مسؤلہ  میں اگر بھائیوں نے باپ کا ترکہ  اپنے مابین تقسیم  کرکے بہنوں کو حصہ نہ دیا ہو تو اس سے بہنوں کا  حق   میراث ساقط نہیں ہوا ہے  بلکہ وہ  بھائیوں سے اپنے حصے کے بقدر مطالبے کی حقدار ہیں۔

 

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه".(سنن ابن ماجه، باب الوصایا، الفصل الثالث، ج:1،ص: 266)

لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك۔(الأشباه والنظا ئر لإبن نجيم، مايقبل الإسقاط من الحقوق وما لايقبله، ج:1، ص:272)

الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط۔(تكملة ردالمحتار،كتاب الدعوی، باب التحالف، ج:11، ص:678)


فتویٰ نمبر : 3283/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں