بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

امام کا آنے والے شخص کے لیےرکوع یا آخری قاعدہ لمبا کرنا


سوال

  اگر امام نے رکوع یا آخری قاعدہ کی قرات کو مقتدی کے لیے لمبا کیاتاکہ آنے والا شخص رکعت یا نماز  یاجماعت  میں شریک ہوسکے،  تو شرعاً ایسا کرنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

            اگر امام آنےوالے نمازی کو پہچان لے اور اس کی رعایت میں رکوع، یا آخری قاعدہ  کو  لمبا کرے تو یہ مکروہ تحریمی ہے ،اور اگر پہچانے بغیر طویل کرے تو نماز مکروہ نہیں ہوتی،تاہم اتنا زیادہ لمبا نہ کرے کہ نمازی اکتا جائیں اور لوگوں کے لیےپریشانی کا باعث بنے۔

 

وكره تحريماإطالة ركوع أو قراءة لإدراك الجائي: أي إن عرفه وإلا فلا بأس به، ۔۔۔ (قوله وإلا فلا بأس) أي وإن لم يعرفه فلا بأس به لأنه إعانة على الطاعة، لكن يطول مقدار ما لا يثقل على القوم، بأن يزيد تسبيحة أو تسبيحتين على المعتاد۔)۔۔۔(قوله إطالة ركوع أو قراءة) وكذا القعود الأخير قبل السلام.( ردالمحتارعلی الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1،ص:495)


فتویٰ نمبر : 9235/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں