بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اکیلے نماز پڑھنے والےکی اقتدا کرنےکی صورت میں منفرد کی نماز


سوال

اگرکوئی شخص اکیلے نماز پڑھتا ہواور  دوسرا شخص آکر  نماز کے دوران  اشارہ  سے اس کو بتا کر اس کی  اقتدا کرے،اور نماز پڑھ لے، تو کیا ایسی صورت میں جس نےپہلے اکیلے نماز شروع کی تھی اس کی نماز درست ہوگی یا نہیں ؟

جواب

               شریعت  مطہرہ کی رو سےاگر   کوئی شخص اکیلے فرض نماز پڑھ رہا ہو اوردوسرا شخص آکر اس کی اقتدا میں نماز شروع کرےتو اکیلے نماز پڑھنے والے کواختیار ہے کہ وہ بعد میں شریک ہونے والے شخص کی نیت کرے یا  نہ کرے؛دونوں صورتوں میں اس کی نماز درست ہے۔البتہ اگر اس نے مقتدی کی نیت کی  توپھر اگر نمازجہری ہو توامام  قراءت میں جہاں تک پہنچا ہے    اس سے  آگے جہراً شروع کرے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق پہلے سے کھڑے  اکیلے نماز پڑھنے والے شخص کی نماز درست ہے خواہ اس نے دوسرے شخص کی نیت کی ہو  یا نہ کی ہو۔

 

شرع منفردا في صلاة جهرية فقرء الفاتحة مخافته ثم اقتدى به جماعة يجهر بالسورةإن قصد الإمامة،وإلافلاإذلايلزمه مالم يلتزم۔ (حلبي كبيری، فصل في مسائل شتی، ص:533)

(والإمام ينوي صلاته فقط) و (لا) يشترط لصحة الاقتداء نية (إمامة المقتدي) بل لنيل الثواب عند اقتداء أحد به قبله كما بحثه في الأشباه ۔(الدرالمختار علی صدر ردالمحتار، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:424)


فتویٰ نمبر : 9234/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں