بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کسی مجبوری کے بغیرمیت کو تابوت میں دفنانا


سوال

 میت کولکڑی کی تابوت میں بغیر کسی مجبوری کے دفنانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سےمیت کو لحد یا شق میں  بغیر تابوت کے دفنانا چاہیے تاکہ مٹی کے ساتھ اس کا جسد پیوست رہے تاہم اگر زمین نرم ہو جس میں نعش کا دفنانا مشکل ہو یا میت کا جسم متاثر ہو یعنی زخمی ہو یا بدن ٹوٹ چکا ہو کہ تابوت کے بغیر دفنانے میں مشکلات ہوں تو پھر تابوت کے دفنانے میں کوئی حرج نہیں ۔

 

قوله: "ولا باتخاذ التابوت ولو من حديد" ويكون من رأس المال إذا كانت الأرض رخوة أو ندية ويكره التابوت في غيرها بإجماع العلماء۔(حاشية الطحاوی علی مراقی الفلاح، فصل في حملها ودفنها، ج:1،ص:608)


فتویٰ نمبر : 9218/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں