بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

عرفات اور مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین کے لیے جماعت کی شرط


سوال

 مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا ضروری ہے اس میں امام کی شرط نہیں ہے جب کہ عرفات میں امام کے بغیر ظہر اور عصر کی نمازوں کو الگ الگ اپنے وقت میں پڑھنا ضروری ہے، اس فرق کی وجہ کیا ہے؟

جواب

          مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز میں جمع کرنے کے لیے جماعت شرط نہیں ہے، جب کہ عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کرنے کے لیے جماعت شرط ہے، ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ مغرب کی نماز مزدلفہ میں اپنے وقت کے بعد عشاء کے وقت میں ادا کی جاتی ہے اور عشاء کے وقت میں ادا کی جاتی ہے اور وقت نکلنے کے بعد نماز کی ادائیگی قیاس کے موافق ہے، اس لیے اس میں جماعت کی شرط نہیں ہے۔ جب کہ عرفات میں عصر کی نماز اپنے وقت سے پہلے اداء کی جاتی ہے اور وقت سے پہلے نماز ادا کرنا خلاف القیاس ہے اس وجہ سے وہاں نص کی رعایت رکھنا ضروری ہوگا یعنی بغیر جماعت کے نمازوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔

 

وقوله (ولا تشترط الجماعة لهذا الجمع) أي لجمع المزدلفة (عند أبي حنيفة لأن المغرب مؤخرة عن وقتها) وأداء الصلاة بعد خروج وقتها موافق للقياس لأن القضاء مشروع في جميع الصلوات فلا يجب مراعاة مورد النص، فالنص وإن ورد في تأخير المغرب عند وجود الجماعة لكن لا يشترط فيه الجماعة، وأما تقديم الصلاة على وقتها فمخالف للقياس من كل وجه فيراعى لذلك فيه جميع ما ورد فيه النص، وإنما خص أبا حنيفة بالذكر لأن الجماعة كانت شرطا عنده في الجمع بعرفات. (العناية شرح الهداية، كتاب الحج، باب الإحرام، ج:2، ص:46)


فتویٰ نمبر : 9301/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں